حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 352
حقائق الفرقان ۳۵۲ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ ٤٦- اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ أَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ لَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ - ترجمہ ۔ اے پیارے محمد ؟! تو پڑھ کر سنا دے جو وحی کی جاتی ہے تیری طرف کتاب میں سے اور قائم رکھ نماز کو ۔ کچھ شک نہیں کہ نماز روکتی ہے کھلی بے حیائی اور کار بد سے ( یہود اور نصاری بننے سے ) اور اللہ کی یاد تو سب سے بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کیا کرتے ہو۔ تفسیر - اتل ۔ پڑھا کر۔ وَ أَقِمِ الصَّلوةَ ۔ سمجھاتا ہے کہ صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ عملی رنگ بھی ہو۔ وَ لَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ ۔ میرے ذوق میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اس نماز کے اجر میں اللہ جو تمہیں یاد کرے گا۔ وہ اس ( صلوۃ ) سے بہت بڑا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۷) اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتب - آجکل کے مسلمان زندوں کو تو سناتے نہیں البتہ قبروں پر مردوں کو سناتے ہیں۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۳) تو پڑھ جو اتری تیری طرف کتاب اور کھڑی رکھ نماز بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی سے اور بری بات سے اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی اور اللہ کو خبر ہے جو کرتے ہو۔ ( فصل الخطاب المقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۸۱ حاشیه ) ( اس آیت) سے نماز کی علت غائی خوب ظاہر ہوتی ہے کہ نماز منکرات اور فواحش سے محفوظ رہنے کیلئے فرض کی گئی ہے اگر نماز کی اقامت اور مداومت سے نمازی کے اقوال وافعال میں کچھ روحانی ترقی نہیں ہوئی ۔ تو شریعت اسلامی ایسی نماز کو مستحق درجات ہر گز نہیں ٹھہراتی ۔ اب مجاز و ظاہر کہاں رہا۔ نبی عرب علیہ الصلواۃ کیلئے کچھ کم فخر کی بات نہیں اور اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی قوی دلیل ہے کہ اس نے خدا کی عبادت کو طبلوں ، مزماروں ، سارنگیوں اور بربطوں سے پاک کر دیا۔ اللہ