حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 334
حقائق الفرقان الله له سُورَةُ الْقَصَصِ ۵۷ - إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ اعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ - ترجمہ ۔ تو تو ہدایت نہیں دے سکتا جس کو چاہے اور اللہ ہدایت دے سکتا ہے جسے چاہے اور وہی خوب جانتا ہے تو فیق والوں اور کامیاب اور طاقتوروں کو۔ تفسیر - إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ - انبیاء خصوصیت سے ایک شخص کو مخاطب کر کے وعظ کرنے کی بجائے عام طور پر نصیحت دیتے ہیں۔ یہ کلمات خدا کی جناب میں ناپسند ہیں کہ فلاں اگر مسلمان ہو جاوے تو یوں ہو جائے گا۔ یوں سب روکیں ہٹ جائیں گی ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۱۹۴) ٦٠ - وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمَّهَا رَسُولًا يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِلِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظُلِمُونَ - ترجمہ ۔ اور تیرا رب کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں جب تک کہ نہ پہنچ لے ان کے بڑے شہر میں کوئی رسول جو پڑھے ان پر ہماری آیتیں اور ہم کسی بستی کو ہلاک ہی نہیں کرتے مگر جب وہاں کے لوگ ظالم ہوں ۔ تفسیر اتی کے معانی ہوئے ام القری کا رہنے والا اور ام القری مکہ کا نام ہے۔ پس ان پڑھ کے معنے خواہ مخواہ لے لئے۔ موقع مناسب آگا پیچھا دیکھ کر معنی کرنا چاہیے تھا اور سچ یہ ہے کہ جہاں کوئی ہادی بھیجا جاتا ہے۔ اسی بستی کو اس ہادی کے زمانے میں اور بستیوں کا ام جس کے معنی اصل کے ہیں کہا جاتا ہے۔ ثبوت يَبْعَثُ فِي أُمَّهَا رَسُولًا (القصص : (٦٠) قرآن میں ہے پھر اس لحاظ سے بھی مکہ معظمہ کو ام اور ام القری کہا گیا اور ہر مامور کی بستی ام ہوا کرتی ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۱۰)