حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 319
حقائق الفرقان ۳۱۹ سُوْرَةُ الْقَصَصِ تا کوئی خدائی سلسلہ پر احسان نہ رکھے۔ بلکہ خدا کی قدرت نمائی اور ذرہ نوازی کا ایک بین ثبوت ہو کر ان مؤمن ضعفاء کے دلوں میں ایمانی ترقی ہو اور ان کے دلوں میں خدا کے عطایا اس کی قدرتوں اور کرموں کے گن گانے کے جوش پیدا ہوں ۔ پس تم اس خیال کو کبھی بھی دل میں جگہ نہ دو کہ اکابر اور بڑے بڑے مال دار اور رؤساء عظام تمہارے ساتھ نہیں ہیں ۔ اگر تم ذلیل ہو تو تم سے پہلے بھی کئی گروہ تمہاری طرح کے ذلیل گزرے ہیں مگر آخر کار کامیابی کا تمغہ ایسے پاک اور مومن ذلیلوں ہی کو عطا کیا جایا کرتا ہے۔ دیکھو موسی کے مقابلہ میں فرعون کیسا زبردست اور جبروت والا بادشاہ تھا مگر خدا نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ فرمایا کہ وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمُ ابِمَةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَرِثِینَ ۔ کس طرح سے ان ضعیف اور کمزور لوگوں کو اپنے احسان سے امام اور بادشاہ بنادیا۔ دیکھو یہ باتیں صرف کہنے ہی کی نہیں۔ بلکہ عمل کرنے کی ہیں۔ عمل کے اصول کے واسطے کہنے والے پر حسن ظن ہونا ضروری اور لازمی امر ہے۔ اگر دل میں ہو کہ کہنے والا مرتد فاسق و فاجر ہے۔ منافق ہے۔ تو پھر نصیحت سے فائدہ اٹھانا معلوم اور عمل کرنا ظاہر بعض اوقات شیطان اس طرح سے بھی حملہ کرتا ہے اور نصیحت سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیتا ہے کہ دل میں نصیحت کرنے والے کے متعلق بدظنی پیدا کر دیتا ہے۔ پس اس سے بچنے کے واسطے بھی وہی ہتھیار ہے جس کا نام دعا، دردمند دل کی اور سچی تڑپ سے نکلی ہوئی دعا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ ) وَأَوْحَيْنَا إِلَى أَمْ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَالْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ - ترجمہ ۔ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کی ماں کی طرف کہ اس کو دودھ پلا ۔ پھر جب تو اس پر خوف کرے تو اس کو رکھ دے دریا میں اور کچھ خوف نہ کر اور غم نہ کر ۔ ہم بے شک اس کو پھر پہنچا دیں گے تیرے پاس اور اس کو رسولوں میں سے بناویں گے ۔ تفسیر ۔ فَالْقِيهِ فِي الْيَم - الہامی عبارت کو سمجھنے کیلئے ایک فہم سلیم دیا جاتا ہے۔ اس سے یہ