حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 318
حقائق الفرقان ۳۱۸ سُوْرَةُ الْقَصَصِ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۸ و ۴۹ مورخه ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه (۴) شادی کر لی۔ یہ بیان عبرت کیلئے ہے۔ غرض اور کی حقارت کرنا بہت بری بات ہے۔ ٦ - وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ - ترجمہ ۔ اور ہم ارادہ کیا کرتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جو کمزور کئے گئے تھے ملک میں اور بنائیں ہم ان کو پیش رو اور انہیں کو وارث کر دیں۔ تفسیر وَ نُرِيدُ أَنْ تَمنَ ۔ اس میں سمجھایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے تئیں ضعیف بنالیں۔ غضب سے کام نہ لیں ۔ ہم خودان کے ناصر و معاون بن جاتے ہیں۔ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً - قرآن مجید میں دوسرے مقام پر فرمایا کہ امام انسان اس وقت بنتا ہے جبکہ لوگوں کو ہدایت دے اور صبر سے کام لے اور ہماری آیات پر یقین پیدا کرے۔ فرمایا وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ ائِمَةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِأَيْتِنَا يُوقِنُونَ (السجدة: ۲۵) وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ - وہ شام وغیرہ کے وارث ہوئے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۲) وَ نُرِيدُ ۔ ہمارا یہ ارادہ رہتا ہے۔ مسلمان اس نکتہ کو سمجھیں وہ تکبر و فضولی چھوڑ دیں تو خدا انہیں آئمہ بنادے۔ تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۱) خدا جو کہ قادر مقتدر ہستی اور رب العلمین ہے۔ اس نے یہ قاعدہ بنا دیا ہے کہ مامورین اور مرسلوں کے ساتھ ابتدا میں معمولی اور غریب لوگ ہی شامل ہوا کرتے ہیں اور جتنے اکابر اور بڑے بڑے مدبر کہلانے والے ہوتے ۔ ہیں وہ ان کے مقابل میں کھڑے کر دیئے جاتے ہیں تا کہ وہ اپنی سفلی کوششیں ان کے نابود کر دینے میں صرف کر لیں اور اپنے سارے زوروں سے ان مرسلوں کی بیخ کنی کے منصوبے کر لیں ۔ پھر ان کو ذلیل اور پست کر دیا جاتا ہے اور خدا کے بندوں کی فتح اور نصرت ہوتی ہے اور وہی آخر کار کامیاب اور مظفر و منصور ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ لے اور بنی اسرائیل میں سے بنائے ہم نے پیشوا کہ وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم کی جب کہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں کا یقین رکھتے تھے۔