حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 317
حقائق الفرقان ۳۱۷ سُورَةُ الْقَصَصِ چونکہ نبی کریم کو مثیل موسی فرمایا ۔ اس لئے حضرت موسیٰ کا ذکر قرآن مجید میں بہت آیا ہے دوم اس لئے کہ وہ صاحب شریعت تھے۔ سوم اس لئے کہ نفس ه هر یک کمتر از فرعون نیست لیک او را عون ما را عون نیست ! پس لِكُلِّ فِرْعَوْنَ مُوسَی کے مطابق موسیٰ کا ذکر مومنوں کے لئے بہت مفید ہے۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۱) إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً - مِنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَ يَسْتَحْيِ نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ترجمہ ۔ بے شک فرعون ملک میں سرزور ہو رہا تھا اور وہاں کے لوگوں کو بنا رکھا تھا الگ الگ جماعتیں ۔ ایک گروہ کو کمزور کرتا رہتا تھا ۔ ایک گروہ کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا۔ ان کی عورتوں کو بے عزت کرتا تھا۔ کیوں کہ وہ شریر فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ تفسیر ۔ تکبر خداوند تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ فرعون نے علو کیا۔ تکبر کیا۔ بنی اسرائیل کو ذلیل سمجھا۔ مسلمانوں میں بھی جب سلطنت آئی۔ تو ان میں علو پیدا ہو گیا ۔ اور یہی موجب ان کے زوال کا ہوا ۔ دیکھو مسلمانوں کے سب گھروں میں چوہڑوں کی آمد ورفت ہے۔ وہ ان کے گھر کی صفائی کرتے ہیں۔ مگر ان کو کبھی ان پر رحم نہیں آتا۔ ان کی اصلاح کا کوئی خیال ان کے دلوں میں نہیں آتا۔ ان کو حقیر جانتے ہیں اور اسی حالت میں ان کو چھوڑ رکھا ہے میں دیکھتا ہوں کہ ملک کے بعض حصوں میں یہ قوم اب ترقی کر رہی ہے۔ بعض ان میں سے بڑے بڑے عہدوں پر پہونچ چکے ہیں ۔ کسی کی حقارت نہیں کرنی چاہیے۔ مجھے ایک سید صاحب کا حال معلوم ہے کہ وہ اپنی ذات کو اتنا بڑا جانتے تھے کہ اپنے شہر کے کسی سید کو اپنی لڑکی دینا پسند نہ کرتے تھے۔ اور چونکہ وہ کسی کو لڑکی نہ دیتے تھے۔ ان کے لڑکے کو بھی کوئی لڑکی دینا پسند نہ کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا بیٹا اور بیٹی ہر دو عیسائی ہو گئے۔ اور ان کی لڑکی نے ایک چمار نو عیسائی کے ساتھ ے ہر شخص کا نفس فرعون سے کمتر نہیں ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ فرعون کے پاس اختیارات تھے اور ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں ۔ ۲۔ ہر فرعون کے لئے موسیٰ ہے۔