حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 289

حقائق الفرقان ۲۸۹ سُوْرَةُ النَّمْلِ ۔ سارے كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ پڑھتے ہیں۔ یہود اور عیسائیوں کو اس کی نسل سے ہونے کا فخر ہے۔ غرض خدا تعالیٰ جس بیج کو بڑھاتا ہے۔ وہ کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم نے دیا تھا داؤد اور سلیمان کو علم علم ایک بے نظیر ۔ عزت بڑھانے والی نعمتِ الہی ہے۔ کتا جو ذلیل ترین حیوانات ہے جب اس کو شکار کرنے کا علم ہو جائے ۔ اس کی کتنی عزت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح باز ایک وحشی پرندہ ہے مگر سیکھا ہوا کیسا معزز ہو جاتا ہے۔ غرض جس قدر علم زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی قدر عزت زیادہ ہوتی جاتی ہے بلکہ انسان عالم انسان جاہل سے کتنا زیادہ معظم ہوتا ہے اور ملائکہ میں بھی علم کے مدارج سے ہی ترقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ترقی علم کی دعا سکھائی اور فرما یا قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) اسی واسطے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے علم کا ہی احسان جتلا یا۔ چونکہ شکر سے نعمت میں ترقی ہوتی ہے۔ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمُ اس لئے انہوں نے بطور شکر نعمت عرض کی کہ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ انہوں نے کہا۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جس نے ہم کو فضیلت دی اپنے بہت سے مومن بندوں پر۔ شریروں بد معاشوں سے نہیں کہا۔ بلکہ اکثر مومنین سے بھی فضیلت کا ملنا بیان فرمایا۔ حضرت داؤد کے انیس لڑکے تھے۔ مگر یہ فضیلت صرف سلیمان کو ہی ملی۔ ( بدر جلد نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۳) ا وَوَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ وَقَالَ يَأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَ أُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۔ ترجمہ ۔ اور داؤد کا جانشین ہو ا سلیمان اور کہا لوگو ہم کو سکھائی گئی ہے پرندوں کی بولی اور ہم کو ہر ایک چیز میں سے دیا گیا ہے۔ بے شک یہی تو کھلا کھلا فضل و کمال ہے ۔ (علم) تفسیر حضرت سلیمان حضرت داؤد کا وارث ہوا ( علم ا ( علم و کمالات روحانی میں ) اور کہا ۔ اے لوگو! ہم کو علم منطق الطیر سکھلایا گیا ۔ علم منطق الطیر کو یونانی میں ارنی سولو جیا۔ سنسکرت میں ے کہا کراے میرے رب ! مجھے علم اور زیا ے علم اور زیادہ دے۔