حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 290

حقائق الفرقان ۲۹۰ سُوْرَةُ النَّمْلِ بسنت راج۔ عبری میں و بر با عرف کہتے ہیں۔ یہ بڑا بھاری علم ہے۔ اس علم کے ایک شعبہ آوازوں سے شکاری لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں طبیب علاج میں اور سیاح پانی۔ آبادی راستوں کا پتہ ان کے ذریعہ لگاتے ہیں۔ روحانی لوگ کشف والے ان کے حالات سے اعلیٰ سے اعلیٰ عجائبات حاصل کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان کو دونوں قسم کے فوائد ظاہری و باطنی منطق الطیر سے حاصل تھے۔ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ علاوہ اسی علم کے سب خبر ہم کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مل گئی ہے۔ بعض جاہل کل شیء کے لفظ سے دھو کہ کھاتے ہیں۔ اور جاہل قرآن سے دور جاتے ہیں تفصیلاً لِكُلِّ شَيْءٍ (الانعام: ۱۵۵) قرآن کریم کی مدح میں آیا ہے پس اس سے وہ یہ امر نکالتے ہیں کہ ہر ایک عمل قرآن میں ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ اس جگہ اگر وہی معنے لئے جاویں تو پھر ریل۔ تار۔ ڈاک۔ مطابع اور نئی نئی آج کل ایجادیں بھی ان کے پاس ہونی چاہئیں اور کم سے کم ہم لوگ بھی ان کی رعایا اور نوکر موجود ہوں ۔ پس ایسے معانی کل کے لینے غلط ہیں۔ کل کا لفظ ہاں کل کا لفظ موقع اور حیثیت کے لحاظ سے بولا جاتا ہے۔ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ۔ بے شک یہ کھلا فضل اللہ تعالیٰ کا ہے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۵ ء صفحه (۳) وَوَرِثَ سُلَيْمَن ۔ یوں تو حضرت داؤد کے انیس لڑکے تھے۔ مگر علمی وارث سلیمان ہوئے ۔ مَنْطِقَ الطَّيْرِ ۔ ایک منطق الطیر اس علم کا نام ہے جو انبیاء کو عطا ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جو حکماء کو۔ تیسرا تجربہ کاروں کو ۔ سلیمان علیہ السلام کو تینوں علم بخشے گئے ۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹ و ۴۰ مورخه ۲۸،۲۱ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹) ۱۸ - وَحُشِرَ لِسُلَيْمَنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ - ترجمہ ۔ اور سلیمان کے لئے جمع کئے گئے اس کے لشکر بڑے آدمی اور غریب آدمی یعنی جن وانس اور اور ہرقسم ہر قسم کے سوار و و پرندے تو وہ وہ بڑی ترتیب سے کھڑے کئے جاتے تھے۔ ے تفصیل اور بیان ہر ایک چیز کا۔