حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 276

حقائق الفرقان ۲۷۶ سُورَةُ الشُّعَرَاء ۱۹۴، ۱۹۵ - نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ - ترجمہ ۔ اسے روح الامین لے کر اترا ہے ( یعنی جبرئیل )۔ تیرے دل پرتا کہ تو ڈر سنانے والا ہو۔ تفسیر۔ لے اترا ہے۔ اس کو فرشتہ معتبر تیرے دل پر کہ تو ہو ڈر سنانے والا ۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۷۲ حاشیہ ) ۱۹۶ ، ۱۹۷ - بِلِسَانِ عَرَبِي مُّبِينٍ وَ إِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ - ترجمہ ۔ صاف عمدہ عربی زبان میں ۔ اور بے شک یہ پہلوں کی کتابوں میں ہے۔ تفسیر۔ عربي مبين ۔ کھول کھول کر سنانے والی ۔ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ۔ دیکھو یسعیاہ کے باب ۵،۴ کو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۸) ۲۱۱ تا ۲۱۳ - وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيْطِينُ - وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ - ترجمہ ۔ اور نہ اس کو شیطانوں نے اتارا ۔ اور نہ یہ ان کے کرنے کا کام ہے اور نہ وہ کر ہی سکتے ہیں۔ وہ تو سننے سے دور رکھے گئے ہیں۔ تفسیر عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ قرآن ایسی کتاب ہے کہ شریر اس کے سنے کی بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ چہ جائیکہ دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۸) اللہ سے دور ہلاک ہونے والی خبیث روحوں کے ذریعہ یہ کا حوں کے ذریعہ یہ کلام الہی نازل نہیں ہوا۔ اور ان - کے مناسب حال بھی نہیں۔ اور ایسا کلام لانے کیلئے وہ طاقت ہی نہیں رکھتے ۔ بے ریب ایسا کلام سننے سے وہ الگ کئے گئے ہیں کیونکہ تمام شیطانی کاموں کا قرآن مجید میں استیصال ہے۔ بھلا شیطان اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے؟ شیاطین تو ہر ایک کذاب، مفتری، بہتانی ، بدکار پر نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۶۹)