حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 277
حقائق الفرقان ۲۷۷ ۲۱۵ - وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ - ترجمہ ۔ اور تو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دے۔ سُورَةُ الشُّعَرَاء تفسیر - وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ مؤمن پر لازم ہے کہ پہلے اپنی اصلاح کرے پھر اقرباء کو سمجھائے اور ان کو سمجھانا تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اقرباء کو خوب سمجھایا۔ پہلے دعوت کی ۔ موقع نہ ملا تو پھر دعوت کی اور انہیں وعظ کیا۔ پھر جو کسر رہی تو پہاڑ پر چڑھ کر سب کو نام به نام پکارا۔ یہاں تک کہ صبح سے لے کر عصر کی نماز کا وقت آ گیا۔ عصر کے بعد کہا کہ اگر ہم کہہ دیں کہ مکہ پر دشمن کا لشکر چڑھائی کرنے والا ہے تو تم میری بات کا یقین کرو۔ یا نہیں ۔ انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں کہ آپ صادق ہیں۔ اس پر آپ نے کہا آنا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ۔ میں ڈرانے والا وں۔ دیکھو تم پر عذاب النبی آنیوالا ہے اپنی عاقبت کی فکر کرو اور اپنے تئیں شیطانی اعمال سے بچالو۔ میں بھی عصر کے بعد تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تئیں بے جا غضب، شہوت، کسل و کاہلی، حرص و طمع سے بچالو۔ اس وقت صحابہؓ کی طرح تمہیں موت کا سامنا نہیں ۔ بلکہ دین کی خدمت آسان ہے۔ تم قلم چلاؤ۔ تقریر کرو۔ مگر خدا کی رضامندی کے لئے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۸) ۲۲۰ - وَ تَقَلُّبَكَ فِي السَّجِدِينَ - ترجمہ ۔ اور سجدہ کرنے والوں میں تیرے حرکات سکنات ۔ تفسير - تَقَلُّبَكَ فِي السُّجِدِین ۔ مسلمانوں کے گھروں میں جاتا ہے۔ ۲۲۵۔ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوْنَ - تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۰) ترجمہ ۔ اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کیا کرتے ہیں ۔ تفسير وَالشُّعَرَاء ۔ وہ تک بند جو بہادری - مروّت ۔ تواضع ۔ رحم کی تعریفیں کرتے ہیں ۔ مگر خود اپنے اندروہ باتیں پیدا نہیں کرتے اور جس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس سے خود بچتے نہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ (۱۸۸)