حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 155 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 155

حقائق الفرقان ۱۵۵ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ اخلاق کے بارہ میں نفع پہنچے تو ان مسئلوں پر بحث کرو۔ اگر نہ پہنچے تو ان پر تھوک دو۔ ہم نہیں جانتے کہ موسی کا عصا کتنا لمبا تھا اور کس لکڑی کا تھا۔ آدم کے گرنے کی جگہ کہاں ہے۔ اور نوح کی کشتی کسی لکڑی کی تھی وغیرہ۔ میرا ایک استاد منشی قاسم علی رافضی تھا۔ میں اس سے فارسی پڑھا کرتا تھا۔ وہ مجھے کہتا ۔ آج بزم کا رقعہ لکھو۔ آج رزم کا رقعہ لکھو۔ آج بہار یہ رقعہ لکھو۔ آج خزاں کا رقعہ لکھو۔ مجھے حکم ہوا کہ آج یہ سب رقعے یاد کر کے ہمیں سنا دو۔ میں اس کو فر فر کر کے سنا بھی دیا کرتا تھا۔ شاباش لے کر ادھر جلا دیا کرتا تھا۔ آٹھ آٹھ ورق کا سرنامہ میں نے پڑھا ہے اس سے مجھے یہ فائدہ پہنچا کہ میں نے اب سرناموں کو جڑھ سے ہی کاٹ دیا ہے۔ میرے سرنامے یہ ہیں ۔ عزیز، عزیز مکرم، مکرم، جناب، السلام علیکم ۔ جن سے مجھے محبت نہیں ہے۔ ان کو میں صرف جناب لکھ دیتا ہوں ۔ یعنی تم اس طرف۔ میں اس طرف ۔ غرض ہم کو ان فضول باتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کو پنج بناء اسلام کی ضرورت ہے۔ اخلاق کی ضرورت ہے۔ ( بدر - کلام امیر حصہ دوم ۔ مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ء۔ صفحہ ۲۔۳) وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَوةِ فَعِلُونَ - ترجمہ ۔ اور جو زکوۃ دیا کرتے ہیں ۔ تفسیر المذكورة فعنون - زکوۃ کا لفظ بہت وسیع ہے۔ ایک نصاب پر ۔ دوم جو کچھ خدا نے دیا اس سے خرچ کرے۔ کیسی دکھیارے کی تکلیف اٹھا لینا۔ خوش پیشانی سے ملاقات کرنا حتی کہ لا إله إلا الله پر ایمان بھی زکوۃ ہے کہ یہ بھی موجب ترکیہ ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) ۹ - وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمْنَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُونَ - ترجمہ ۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے اقرار کا پاس رکھتے ہیں ۔ تفسير الامنتهم ۔ امانت اپنے ماتحت ورعایا کو بھی کہتے ہیں۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۸)