حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 154

حقائق الفرقان اولد سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ ورق لکھ دیئے ہیں ۔ نعوذ باللہ ۔ ایک کہانی ایک آیت پر یہ لکھ دی گئی ہے کہ ایک چار پائی پر ایک بادشاہ بیٹھ گیا۔ چار پائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے اور گر جیں ( گدھیں ) بھی باندھ دیں ۔ وہ اس کا کھٹولا ہی اڑا کر آسمان کی طرف لے گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ خاص فضل کیا ہے۔ میں تو ان لغو باتوں کے نزدیک بھی نہیں آ سکتا۔ اب لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا خدا جھوٹ بھی بول سکتا ہے پہلے خدا کے بولنے کا تو فیصلہ کرو کہ آیا بولتا بھی ہے یا نہیں۔ اب پوچھتے ہیں کہ اگر خدا بروں کو دوزخ میں ڈالنے کا وعدہ کرتا ہے تو کیا نیکوں کو نہیں ڈال سکتا۔ میں خدا کے فضل سے اس پر بحث کر سکتا ہوں۔ میں نے قرآن کی غرض سمجھی ہوئی ہے۔ مگر لوگوں نے قرآن کی اور ہی غرض سمجھی ہے۔ بعض سمجھتے ہیں کہ قرآن میں صیغے عجیب عجیب ہیں ۔ وہ حل ہو جاویں ۔ يَتَّقِه (النور : ۵۳) کا صیغہ کیا ہے۔ کوئی کہتا ہے اس میں ترکیبیں مشکل ہیں وہ حل کی جاویں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو دوزخ میں ٹھونسنا ہے اور بدکاروں کو جنت میں بھیجنا ہے تو اس قرآن کا آنا تو خاک میں مل گیا۔ اللہ تعالیٰ کی شناخت میں بھی لغو سے بہت کام لیا گیا ہے بعض خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه وغیرہ کہتے ہیں پھر عیسائی اس قاعدے پر چلے ہیں کہ خدا مجسم ہو سکتا ہے جیسا کہ وہ ہوا۔ پھر ہندو کہتے ہیں ۔ کہ خدا ایک سنسار بنا۔ پھر کچھو کہاں ۔ پھر ایک دفعہ سور بن گیا۔ چنانچہ کہتے ہیں۔ کچھ مچھ ور ادتوں ژا سنگھ توں ۔ یعنی شیر بھی تو ہی ہے۔ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور اپنے بڑھاپے کو حاضر کرتا ہوں۔ میں ہر رات کو یہ خیال کرتا ہوں کہ شاید میں صبح کو ہوں گا یا نہ۔ میں تم کو کہتا ہوں کہ یہ باتیں بالکل بیہودہ ہیں۔ نہ ہمارے دین کے کام کی ہیں ، نہ دنیا کے کام کی ، نہ صحت کے کام کی ، صحابہؓ ، ائمہ حدیث ، ائمہ فقہ، ائمہ تصوف چاروں قسم کے لوگوں نے قطعا یہ بخشیں نہیں کی ہیں۔ جب مسلمان لوگ فاتح ہو گئے اور ہزاروں کتا بیں دیکھیں تو وہ باتیں اپنی کتابوں میں لکھ ماریں ۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی سوال میں اللہ ، رسول ، فرشتوں ، جزا وسزا کے بارہ میں ، لے وہ خود ہی کوزہ ہے اور خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی ( ہے )۔