حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 122
حقائق الفرقان ۱۲۲ سُوْرَةُ الْحَجِّ کل دنیا میں قربانی کا رواج ہے۔ اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنی چیز اعلیٰ کے بدلے میں قربان کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ ہم بچے تھے تو یہ بات سنی تھی کہ کسی کو سانپ زہریلا کاٹے تو وہ انگلی کاٹ دی جاوے تا کہ کل جسم زہریلے اثر سے محفوظ رہے۔ گو یا انگلی کی قربانی تمام جسم کے بچاؤ کے لئے کی گئی ۔ ۲ ۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی دوست آجاوے تو جو کچھ ہمارے پاس ہو اس کی خوشی کیلئے قربان کرنا پڑتا ہے۔ گھی آٹا گوشت وغیرہ قیمتی اشیاء اس پیارے کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔ ۳۔ اس سے زیادہ عزیز ہو تو مرنے مرغیاں حتی کہ بھیڑیں اور بکرے قربان کئے جاتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر گائے اور اونٹ تک بھی عزیز مہمان کے لئے قربان کر دئے جاتے ہیں۔ ۴۔ میں نے اپنی طب میں دیکھا ہے کہ وہ قو میں جو جائز نہیں سمجھتیں کہ کوئی جاندار قتل ہو وہ بھی اپنے زخموں کے کئی سینکڑوں کیڑوں کو مار کر اپنی جان پر قربان کر دیتی ہیں۔ ۵۔ اس سے اوپر چلیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ادنی لوگوں کو اعلیٰ کیلئے قربان کیا جاتا ہے۔ مثلاً چوہڑے ہیں آج عید کا دن ہے مگر ان کے سپر د پھر بھی وہی کام ہے بلکہ صفائی کی زیادہ تاکید ہے گویا ادنی کی خوشی اعلیٰ کی خوشی پر قربان ہوئی ۔ ۶ ۔ ہندو گئو رکھشا بڑے جوش سے کرتے ہیں ( لداخ کے ملک میں تو دودھ تک نہیں پیتے کیونکہ یہ بچھڑوں کا حق ہے اور یہاں کے ہندو تو دھوکہ دے کر دودھ لیتے ہیں ) مگر پھر بھی اس سے اور ا ہے اور اس کی اولاد سے سخت کام لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے کاموں کیلئے انہیں مار مار کر درست کرتے ہیں ۔ یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔ ۷۔ ادنی سپاہی اپنے افسر کے لئے اور وہ افسر اعلیٰ افسر کے لئے اور اعلیٰ افسر بادشاہ کے بدلے میں قربان ہوتا ہے پس خدا تعالیٰ نے اس فطرتی مسئلہ کو برقرار رکھا اور اس قربانی میں تعلیم دی کہ ادنی