حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 121
حقائق الفرقان ۱۲۱ سُوْرَةُ الْحَجِّ قربانی کرنے سے یہ مراد نہیں کہ اس کا گوشت اللہ تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ اس سے ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی فرماں برداری کا نظارہ مقصود ہے تا تم بھی قربانی کے وقت اس بات کو مد نظر رکھو کہ تمہیں بھی اپنی تمام ضرورتوں، اعزازوں، ناموریوں اور خواہشوں کو خدا کی فرماں برداری کے نیچے قربان کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ جس طرح ان جانوروں کا خون کراتے ہو۔ ایسا ہی تم بھی خدا کی فرماں برداری میں اپنے خون تک سے دریغ نہ کرو۔ انسان جب ایسا کرے تو وہ کوئی نقصان نہیں اٹھاتا۔ دیکھو ابراہیم و اسماعیل کا نام دنیا سے نہیں اُٹھا۔ ان کی عزت و اکرام میں فرق نہیں آیا۔ پس تمہاری سچی قربانی کا نتیجہ بھی بد نہیں نکلے گا۔ وَلكِن يَنَالُهُ التقوى ۔ تقویٰ خدا کو لے لیتا ہے۔ جب خدا مل گیا تو پھر سب کچھ اسی کا ہو گیا۔ معجزوں کی حقیقت بھی یہی ہے۔ جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو اس کو تمام ذرات عالم پر ایک تصرف ملتا ہے۔ اس کی صحبت میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور یہ ایک فطرتی بات ہے کہ ایک انسان کے اخلاق کا اثر دوسرے کے اخلاق پر پڑتا ہے۔ بعض طبائع ایسی بھی ہیں ۔ جو نیکوں کی صحبت میں نیک اور بدوں کی صحبت میں بد ہو جاتی ہیں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۹،۸) قربانی جو عید اضحی کے دن کی جاتی ہے۔ اس میں بھی ایک پاک تعلیم ہے۔ اگر اس میں مد نظر وہی امر ر ہے جو جناب النبی نے قرآن شریف میں فرمایا۔ کن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَادِ مَاؤُهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ - قربانی کیا ہے؟ یہ ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل اور عالم پڑھ سکتے ہیں خدا کسی کے خون اور گوشت کا بھوکا نہیں ۔ وہ هُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ (الانعام: ۱۵) ہے ایسا پاک اور عظیم الشان بادشاہ نہ تو کھانوں کا محتاج ہے نہ گوشت کے چڑھاوے اور لہو کا ، بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور اسی طرح قربان ہو جاؤ اور ادنی اعلیٰ کے لئے قربان ہوتا ہے۔ اے وہ سب کو کھانا کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔