حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 87
حقائق الفرقان ۸۷ سُورَةُ التَّوْبَة سے مکہ کو جو ام القری ہے منتخب فرمایا اور سارے مکہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور پھر عبداللہ اور آمنہ کے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دنیا کو ان انوار و برکات سے بہرہ ورکرے پھر خیر القرون میں صحابہ نے اور تابعین اور تبع تابعین نے کیسی ترقی کی؟ انہوں نے اپنے سلوک کے منازل کو طے کرنے کے واسطے کیا راہ اختیار کی؟ کیا یہ کہ آپ کا اقرار کر لیا آپ کو صادق تسلیم کر لیا اور پھر آپ کے پاس آکر نہ بیٹھے۔ اپنے گھروں میں جا کر اپنے کاروبار میں مصروف ہو کر روپیہ کمانے کی فکر میں ہو گئے اور پاس نہ رہنے کے لئے دنیا اور اس کے مخمصوں کا عذر کر دیا؟ سوچو! اور پھر سوچ کر بتاؤ۔ میں خود ہی اس سوال کا جواب دے دیتا ہوں ۔ صحابہ نے جس قدر ترقیاں کیں جو جو مدارج عالیہ انہوں نے حاصل کئے ان سب کا اصل سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور معیت ہی تھی جس نے ان کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت اس درجہ تک کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی کہ جس کے مقابلہ میں انہوں نے وطن ، آبرو ، عزت، راحت ، دولت ، آسائش، عزیز و اقرباء غرض دنیا کی کسی چیز اور کسی تعلق کی پروا نہیں کی۔ اور تو اور انہوں نے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اپنے خون پانی کی طرح بہا دیئے وہ بات جس نے ان میں یہ قوت یہ شجاعت و استقامت اور ایثار نفس پیدا کر دیا تھا یہی تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے اور آپ کے ساتھ تعلق کو اتنا شدید کیا اور ایسے وابستہ ہوئے کہ وہ سکینت اور اطمینان جو خدا کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی تھی جس نے آپ کا شرح صدر فرمایا۔ اس تعلق اور محبت کی نالی کے ذریعہ صحابہ کے دل پر بھی اترتی تھی اور ان کے شرح صدر کر کے نور یقین سے بھرتے جاتے تھے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۶،۵ ) وہ محبت اور اخلاص جو صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ اس کے مقابلہ میں انہوں نے نہ وطن کی پروا کی اور نہ عزت و آبرو و راحت و آرام کو مد نظر رکھا۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فنا فی الرسول کے مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس میں پورے کامیاب ہوئے ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۵ )