حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 86
حقائق الفرقان مجھے مستغنی کر دیا ہے۔ ۸۶ سُورَةُ التَّوبة میں نے یہ باتیں اس لئے نہیں کی ہیں کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ امام کے ساتھ میرا کیسا تعلق ہے؟ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ ( بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحی) ۔ میری غرض فقط یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو خصوصاً ان دوستوں کو جو مجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں ان فوائد سے اطلاع دوں جو مجھے یہاں رہ کر حاصل ہوئے ہیں اور جنہوں نے دنیا کی ساری دولت کو میرے سامنے بیچ کر دیا ہے وہ بھی یہاں رہ کر وہ بات حاصل کریں جو حضرت امام کے آنے کی اصل غرض ہے۔ اس امر کے اظہار سے میری یہ بھی ایک غرض ہے کہ ان لوگوں کو ابتلا سے بچاؤں جو کبھی کبھی بدظنی کر بیٹھتے ہیں کہ میں دوسروں کو حقیر سمجھ کر بلانے پر قادیان سے باہر نہیں جاتا۔ مجھے تم جو یہاں موجود ہو یا د رکھو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہاں اپنے ہی فضل سے اس راہ کی ہدایت فرمائی ہے کہ الہی فیوض و برکات کے حصول کا اصل ذریعہ ایمان باللہ اور تقویٰ ہے۔ مگر ایمان باللہ اور تقویٰ اللہ کی حقیقت اور کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کہ صادق کی صحبت میں نہ رہے اور مجھے اپنی ذات پر تجربہ کرنے سے اس کی قدر معلوم ہوئی ہے۔ اس لئے میں کھول کر کہتا ہوں کہ اگر چاہتے ہو کہ وہ انوار سماوی اور روحانی برکات حاصل کرو جو روح کے تقاضوں کی انتہا ہیں تو سنو! یہاں آؤ اور صادق کی صحبت میں رہو اور اس سے وہ فیض لو جو وہ لے کر آیا ہے۔ غرض مامور من اللہ اور صادق کی صحبت اور معیت ضروری ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی انسان اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ہی ذات پر بھروسہ کرے اور اپنی تجویزوں اور تدبیروں سے اعلیٰ کامیابیوں تک پہنچے اور اس امر کی پروا نہ کرے کہ مامور من اللہ اور صادق کی صحبت میں رہنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ بیوقوف ہے اپنا دشمن ہے۔ دیکھو اس خیر القرون میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرن تھا۔ خدا تعالیٰ کے برکات اور فیوض کی بارش کا وقت تھا لیکن کل عرب و عجم نہیں ساری دنیا میں لے اعمال تو نیتوں ہی پر ہیں ۔