حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 88
حقائق الفرقان ۸۸ سُورَةُ التَّوْبَة ۱۲۰ - مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَّسُولِ اللهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَا وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَطَونَ مَوطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٌّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلَ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - ترجمہ نہیں چاہیے تھا مدینے والوں اور اس کے اطراف کے گنواروں کو یہ کہ رسول اللہ کے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ مناسب تھا کہ وہ اپنی جانوں کو زیادہ عزیز جانیں رسول کی جان سے۔ کیونکہ نیک کوشش کرنے والوں کو نہ پیاس لگتی ہے اور نہ رنج ہوتا ہے اور نہ سخت بھوک لگتی ہے اللہ کی راہ میں اور نہ وہ ایسے مقاموں پر چلتے ہیں جو کافروں کے غصے کو بھڑکائیں اور دشمنوں سے کسی مال کو حاصل کرتے ہیں مگر ( ہر ایک کام پر ) ان کے لئے لکھا جاتا ہے نیک عمل ۔ بے شک اللہ ضائع نہیں کرتا محسنوں کا اجر۔ تفسیر قرآن شریف چونکہ اللہ علیم و حکیم کی کتاب ہے۔ اس س لئے وہ انسانی ضرورتوں اور اس کی مجبوریوں کا پورا علم اور فلسفہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے اور انسان چونکہ متمدن ہے۔ بعض اوقات اس کو مشکلات پیش آ جاتے ہیں اور وہ ہر دم اس سرکار میں حاضر رہنے سے معذور ہو سکتا ہے۔ اس لئے معمولی ڈوری کو انقطاع گلی کا موجب نہیں ہونے دینا چاہیے۔ جس قدر دور ہوتا جاتا ہے۔ اسی قدر شستی اور کاہلی پیدا ہوسکتی ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور کثرت استغفار اور کثرت استغفار نہ ہو۔ اس لئے انقطار انقطاع گلی سے بچانے کے لئے حکم دیا ہے۔ مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - یعنی اہل مدینہ اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کا یہ کبھی حال نہ ہو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص کام میں توجہ کریں تو یہ اپنی جگہ سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔ انبیاء و مرسلین کے کام اللہ تعالیٰ کے اشارے اور ایماء کے ماتحت ہوتے ہیں اور ان میں باریک در باریک اسرار اور غوامض ہوتے ہیں ۔ موٹی عقل سے دیکھنے والوں کی نظر میں ممکن ہے کہ ایک فعل مفید معلوم نہ ہولیکن دراصل اس میں مال کا رقوم اور ملک کے لئے ہزاروں ہزار مفاد اور بہتریاں ہوتی ہیں۔ تو یہ اس کی حماقت ہو گی اگر اس پر اعتراض کر دے۔