حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 85
حقائق الفرقان ۸۵ سُورَةُ التَّوْبَة کے واسطے جایا کرتا تھا اور ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ کئی دن تک مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع نہ ملا۔ اس غیر حاضری کے بعد جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے پوچھا کہ تم اتنے دنوں تک کیوں نہیں آئے۔ میں نے عرض کی کہ یونہی آنا نہیں ہو سکا۔ اس پر مجھے فرمایا کہ کیا تم کبھی قصاب کی دکان پر بھی نہیں گئے ہو؟ دو تین مرتبہ اس فقرہ کو دہرایا مگر میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے اور میری غیر حاضری اور حاضری کو اس سے کیا تعلق؟ پھر آپ نے ہاتھ کے اشارہ کے ساتھ سمجھایا کہ دیکھو قصاب تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنی دونوں چھریوں کو کس طرح باہم رگڑ لیتا ہے حالانکہ بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس سے عارف کو سبق لینا چاہیے کہ دنیا کے دھندوں اور تعلقات میں انسان کے قلب پر ایک قسم کا زنگ چڑھ جاتا ہے اور معرفت کی تیزی جلد کند ہونے لگتی ہے جس کے واسطے ضروری ہے کہ انسان وقتاً فوقتاً صادقوں کی صحبت میں رہ کر اس زنگ کو دور کرتا رہے اور ان کی نیک صحبت سے اس تیزی اور جلا کو قائم رکھے۔ قرآن کریم میں اسی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ - میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں بے شمار کتابوں کے پڑھنے نے مجھے اتنا فائدہ نہیں دیا جس قدر خدا تعالیٰ کے صادق بندوں کی صحبت نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے اور اب میں سالہا سال سے تجربہ کر رہا ہوں کہ قادیان میں بیٹھ کر جس قدر فائدہ میں نے اٹھایا ہے اپنی ساری عمر میں نہیں اٹھایا جو قادیان سے باہر بسر کی ہے اور چونکہ انسان کی فطرت میں یہ امر اللہ تعالیٰ نے رکھا ہوا ہے کہ وہ نفع رساں اشیاء کو لینا چاہتا ہے اور مضر اور نقصان رساں سے بھاگتا ہے۔ اسی لئے میں قادیان سے باہر ایک دم گزارنا بھی موت کے برابر سمجھتا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں قادیان سے باہر ہزاروں روپیہ پیش کرنے کی صورت میں بھی جانا نہیں چاہتا۔ ہاں اگر کبھی نکلتا ہوں تو محض اس لئے کہ اس پاک وجود کا حکم ہوتا ہے جس کے حضور حاضر رہ کر ی عظیم الشان فائدہ اٹھا رہا ہوں ۔ جس نے ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ دنیا کے سارے مال و متاع سے