حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 84

حقائق الفرقان ۸۴ سُورَةُ التَّوْبَة غرض میں اس کیفیت کی گواہی تجربہ دے سکتا ہوں جو انسان کو خدا تعالیٰ کے ماموروں کے ساتھ تعلق پیدا کر کے ہاں سچا تعلق پیدا کر کے حاصل ہو سکتی ہے۔ حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کیفیت کا ایک مرتبہ اس طرح پر اظہار کیا تھا کہ جیسے پانی کی ایک بڑی نالی ہوتی ہے۔ مامور من اللہ اس نالی کی مانند ہوتا ہے اور سچے ارادتمندوں کا اس نالی کے ساتھ اس طرح پر تعلق ہوتا ہے جیسے چھوٹی چھوٹی نالیاں ایک بڑے لوہے کے نل کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں اور جب پانی کے چشمہ سے اس بڑے نل میں پانی آتا ہے تو ان چھوٹی نالیوں میں بھی ان کے ظرف کے موافق اور استعداد کے مطابق وہ پانی گرتا جاتا ہے۔ پس چونکہ امام خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات کو براہ راست حاصل کرتا ہے اس لئے اس سے سچے تعلق رکھنے والے ان برکات کو اس میں ہو کر حاصل کرتے ہیں۔ میں اس سلسلہ میں دور چلا گیا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسماء حسنیٰ کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ اجزاء متفرقہ کو مجتمع کرے اس لئے اجتماع لازمی ہے۔ ساری گاڑیاں اگر چہ اپنے پہیوں سے چلتی ہیں مگر سٹیم انجن کے بدوں وہ پہلے بیکار محض اور نکھے ہیں اسی طرح پر ہمارے اندر بھی جو قرب کی فطری قوتیں اور طاقتیں ہیں وہ سب کی سب بریکار اور نکھی ہیں اگر کسی سٹیم انجن کے ساتھ ہمارا تعلق نہ ہو کوئی شاخ مثمر ثمرات نہیں ہو سکتی جب تک اصل درخت کے ساتھ اس کا تعلق نہ ہو، کوئی بچہ نشو و نما نہیں پا سکتا جب تک ماں کی گود میں ت کے ساتھ اسکا تعلق ہو بچھونا پاسکتا جب ماں کی گودمیں نہ ہو۔ اسی اصل اور بنا پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ یعنی ایمان باللہ والو! تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ اختیار کرنے کی راہ یہ ہے کہ صادقوں کی صحبت میں رہو۔ مجھے اپنے طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ یاد ہے۔ جب میں ہندوستان میں تعلیم پاتا تھا تو میرے ایک مہربان تھے جو بڑے ہی پر ہیز گار اور صالح آدمی تھے۔ ان کا نام شاہ عبدالرزاق تھا۔ رام پور رو میلکھنڈ میں رہتے تھے اور یہ سید احمد بریلوی کے معتقد تھے۔ میں عموماً ان کی ملاقات اے اے ایماندارو ! اللہ کو سپر بناؤ ، اللہ کا خوف رکھو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔