حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 83 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 83

حقائق الفرقان ۸۳ سُورَةُ التَّوْبَة ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ بن جاتا ہے اور اس کی ساری نفسانی خواہشوں پر موت آ جاتی ہے اور ساری غرض وغایت اللہ کے لئے ہو جاتی ہے۔ اور اس کے دین کا جلال ظاہر کرنا اس کا مقصد ہو جاتا ہے تو پھر ساری مشکلات اس کی حل ہو جاتی ہیں ۔ دنیا اور اس کے اسباب خود اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں ۔ مگر اس کے راہ اختیار کرنے کے واسطے ضرورت ہے قرآن شریف پر عمل کرنے کی اور عمل کے لئے پہلے ضروری ہے قرآن شریف کا فہم اور فہم قرآن بجر تقویٰ کے حاصل نہیں ہوتا اور اس کے واسطے مجاہدہ شرط ہے اور یہ باتیں حاصل ہوتی ہیں مامور کی صُحبت سے اور صادق کے پاس رہنے سے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ اور پھر یہ نصیحت فرماتا ہے کہ تفقہ فی الدین کے لئے اپنی اپنی جگہ سے کچھ آدمی بھیجو جو مامور کی صحبت میں رہ کر وہ فیض حاصل کریں اور پھر واپس اپنی قوم میں جا کر تبلیغ کریں تا کہ تم میں خشیت الہی پیدا ہو۔ بارہا یہ بات میرے دل میں پیدا ہوتی ہے اور جوش اٹھتا ہے کہ لوگ اس ارشاد الہی پر کیوں عمل نہیں کرتے؟ تمہیں فخر ہے کہ قرآن فہمی ہم میں ہے مگر یہ فخر جائز اس وقت ہوگا کہ تم ایک بار اس قرآن کو دستور العمل بنانے کے واسطے سارا پڑھ لو۔ لوگ مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ قرآن شریف کیونکر آ سکتا ہے میں نے بارہا اس کے متعلق بتایا ہے کہ اول تقوی اختیار کرو پھر مجاہدہ کرو اور پھر ایک بار خود قرآن شریف کو دستور العمل بنانے کے واسطے پڑھ جاؤ۔ جو مشکلات آئیں ان کو نوٹ کر لو۔ پھر دوسری مرتبہ اپنے گھر والوں کو سناؤ۔ اس دفعہ مشکلات باقی رہ جائیں ان کو نوٹ کرو۔ اس کے بعد تیسری مرتبہ اپنے دوستوں کو سناؤ۔ چوتھی مرتبہ غیروں کے ساتھ پڑھو۔ میں یقین کرتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر کوئی مشکل مقام نہ رہ جائے گا ۔ خدا تعالیٰ خود مدد کرے گا۔ لیکن غرض ہوا اپنی اصلاح اور خدا تعالیٰ کے دین کی تائید ۔ کوئی اور غرض درمیان نہ ہو۔ بڑی ضرورت عمل درآمد کی ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴)