حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 74
حقائق الفرقان ۷۴ سُورَةُ التَّوْبَة ایک بدکار، نافرمان جب اپنی غلط کاریوں سے الگ ہو جاوے تو انصاف کا مقتضا ہے کہ اب اس کو بری ہی کیا جاوے مگر محدود العقل، محدود العلم آدمی دلوں کے اندرونی حالات سے ناواقف اگر کسی کے عذر کو نہ مانے تو یہ اس کی نادانی ہے۔ مگر عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ جو تہ در تہ کو جانتا ہے۔ وہ جب جان لے کہ اب یہ شخص بدی کا سچا تارک ہو چکا ہے تو پھر تو بہ قبول نہ کرنا نا انصافی ہے۔ ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ اسلام کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے انسان کے دل کی سچی آرزو یعنی مسئلہ تو بہ کی تبلیغ کی ہے۔ ہر ایک فطرت خطا اور نسیان کے بعد دلی جوش سے چاہتی ہے کہ اس کا آقا جس کے حکم کو اس نے توڑا ہے اس کی خطا معاف کر دے اور آئندہ اسے تلافی مافات کا عمدہ موقع دے۔ قرآن کریم نے انسان کی فطرت کی سچی آرزو کے موافق رحیم، کریم ، تو اب آقا پیش کیا ہے۔ تناسخ اور کفارہ کا بیہودہ مسئلہ توبہ کی فلاسفی کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔ بعض بیماریوں کو دیکھو بدی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور جسمانی طور پر جب ان کا علاج کیا جاتا ہے تو وہ بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ پس تو بہ روحانی علاج ہے روحانی بیماروں کا۔ جسمانی سلسلہ سے کاش تم لوگ روحانی سلسلہ کو سمجھو۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۹۱، ۹۲) ۱۰۳ - خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنُ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے جس کے سبب سے تو ان کو پاک صاف کرے اور ان کو دعا دے بے شک تیری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے اور اللہ ( تیری دعا ئیں ) بڑا سننے والا ( تیری اصلاحوں ) کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر ۔ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ لے ان کے مال میں سے زکوٰۃ کہ ان کو پاک کرے ے اس سے اور تربیت اور دعا دے ان کو ۔ البتہ تیری دعا ان کے واسطے آسودگی ہے اور اللہ سب سنتا ہے جانتا۔ ( فصل الخطاب المقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم - صفحه ۲۹۶)