حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 73

حقائق الفرقان ۷۳ سُورَةُ التَّوْبَة ہیں نفاق پر۔ تو ان کو نہیں جانتا ہم انہیں جانتے ہیں قریب ہم ان کو دو دو مرتبہ عذاب کریں گے، پھر وہ : پھیرے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ تفسیر لَا تَعْلَمُهُمْ ۔ دوسرے موقع پر فرمایا وَ لَتَعْرِفَتَهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ (محمد : ۳۱) اور ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا مَّلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أَخِذُوا وَ قُتِلُوا تَقْتِيلًا (الاحزاب: ۶۱، ۶۲) پھر ایک پہچان بتاتا ہے کہ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ۲ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ نومبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۸) ۱۰۲ - وَ أَخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ۔ اور کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ملا ڈالے نیک عمل اور بد عمل ۔ قریب ہے کہ اللہ ان کو معاف کرے، بے شک اللہ بڑا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔ تفسیر۔ میری طبیعت میں خدا تعالیٰ نے یہ بات رکھ دی ہے کہ انسان کے بہت سارے اعمال صالح پر نظر ڈالا کرتا ہوں ۔ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئَاتِ پس جب ہم کسی بدی یا بیماری کی تفسیر کرتے ہیں تو یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ کسی کو نشانہ بناویں۔ بلکہ اس لئے کھولتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کوئی ایسی تحریک پیدا کر دے کہ ان کے اندر سے وہ بیماری (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مورخه ۳۱ جولائی و ۱۰ اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۹) مفردات راغب میں ہے۔ الثَّوْبُ تَرْكُ الذَّنْبِ عَلَى أَجْمَلِ الْوُجُوهِ وَ هُوَ أَبْلَغُ وُجُوهِ الْإِعْتَذَارِ یعنی تو بہ کے معنی ہیں ۔ بہت ہی عمدہ وجہ سے گناہ کو چھوڑ دینا اور اس سے بڑھ کر عذر خواہی کی اور کوئی عمدہ راہ نہیں ہو سکتی ۔ دور ہو جائے ۔ اے اور بے شک تو ان کو پہچانے گا ان کی بات کی ادا اور طرز کلام سے۔ ۲۔ تو وہ مدینہ میں تیرے پڑوسی نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے ہی دن ۔ قتل کئے گئے لعنتی جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور خوب قتل کئے جائیں۔ ے انہوں نے اچھے اعمال اور دوسرے بد اعمال ملا جلا دیئے ۔