حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 72
حقائق الفرقان ۷۲ سُورَةُ التَّوْبَة تفسیر۔ جہاں اللہ تعالی منافقوں وکافروں کا ذکر کرتا ہے وہاں مومنین کا الگ ذکر کرتا ہے۔اس میں ایک حکمت تو یہ ہے کہ شیعہ جو مہاجرین و انصار کو منافق یقین کرتے ہیں ۔ وہ نفع اٹھاویں۔ پس اللہ تعالیٰ پہلے منافقین کفار کے نشانات بتاتا ہے۔ پھر مومنوں کے نشان تا مقابلہ سے معلوم ہو سکے کہ مہاجرین و انصار مومن تھے اور ضرور مومن تھے۔ ابھی پیچھے گزرا ہے کہ منافقین کا ایک نشان یہ ہے هَمُوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا (التوبہ: ۷۴) اب اس کے خلاف بیان فرماتا ہے کہ مہاجرین و انصار کامیاب ہوئے انہوں نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کا سرٹیفکیٹ پایا ۔ الْمُهْجِرِينَ ۔ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ دیا بلکہ رضا کیلئے یہ تعلقات چھوڑ دیئے ۔ الْأَنْصَارِ ۔ جنہوں نے ان مہاجروں کو جگہ دی۔ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَان - دل سے متبع ہوئے نہ بطور تقیہ۔ رَضِيَ اللهُ - يَرْضی نہیں فرمایا کہ کسی کو اعتراض کی گنجائش رہ جاوے ۔ راضی ہو چکا ۔ اس میں نہ صرف ابوبکر کے ایمان کا بلکہ تمام مہاجرین وانصار کے ایمان کا ثبوت ہے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۱۸ رنومبر ۱۹۰۹ صفحه ۱۱۷، ۱۱۸) اور ان کی اتباع کو باعث اپنی رضامندی کا فرمایا ہے۔ انہوں نے بھی نہیں فرمایا کہ فلاں حکم قرآنی اب منسوخ ہے ۔ اس پر بالکل عمل درست نہیں ۔ ( نور الدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۱۳) ١٠١ - وَ مِمَّنْ حَولَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنْفِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ * مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمُ ، نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ - ترجمہ ۔ ۔ اور بعض تمہارے اطراف کے گنوار منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی اڑے ہوئے ا اور ارادہ کر لیا اُس کا جس کو نہ پایا۔