حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 57
حقائق الفرقان ۵۷ سُورَةُ التَّوبة پاس جلد کرنے کا سامان نہیں تو وہ مسکین ہے۔ وَ الْعَمِلِينَ عَلَيْهَا ۔ نبی کریم کے زمانے میں زکوۃ آپ کے حضور پہنچائی جاتی تھی۔ پس جو اس کو جمع کرنے والے تھے ان کو عاملین کہتے ۔ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ۔ مثلاً ایک سکھ یا عیسائی آ گیا ۔ اب اسے مکان چاہیے کھانا چاہیے وغیرہ ضروریات۔ وَ فِي الرِّقَابِ ۔ غلام اور ایسے قیدی جو بذریعہ روپیہ خلاص ہوسکیں ۔ في سَبِيلِ اللهِ ۔ دشمن کے مقابلہ کے لئے جو تیاری کرنی پڑتی ہے۔ اگر لڑائیوں کے دن ہیں تو اس میں رسد و ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ اگر قلم کا جنگ ہے تو پھر کتابوں کی تصنیف و تالیف و اشاعت کا خرچ ہے۔ اور اگر رو برو مکالمہ ہے تو عمدہ تقریر ۔ کلام موجہ کی ضرورت ہے۔ اس پر بھی روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ میرے نزدیک آج کل قرآن وحدیث کی ترویج میں لگا نا فِی سَبِیلِ اللهِ ہے۔ وَ ابْنِ السَّبِيلِ ۔ مسافر لوگوں کو عجیب عجیب ضرورتیں پیش آتی ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۱ نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۱۶) زکوۃ کیا ہے ایک قومی اور مشنری چندہ ہے جس میں سوائے خاص مصرفوں کے کسی متنفس کی خصوصیت نہیں ۔ زکوۃ اور صدقات کن لوگوں کے لئے ہیں ۔ دیکھو قرآن انما الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ۔۔۔ فَرِيضَةً مِنَ الله زکوۃ جو ہے سوحق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور اس کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر چانا ہے اور گردن چھوڑانے میں (غلاموں اور قیدیوں کا چھوڑا نا ) اور جو تاوان بھریں اور اللہ کی راہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرا دیا ہے اللہ کا ۔ ہاں محمد صاحب کی قوم بنو ہاشم پر زکوۃ اور صدقہ حرام ہے ان کو جائز نہیں کہ ان مشنری چندوں سے کچھ لیں ۔ گو کیسے ہی غریب اور مسکین کیوں نہ ہوں ۔ منصفو! یہ استثناء بھی قابلِ غور ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے تو آپ نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھالی اور چاہا کہ منہ میں ڈالیں ۔ جناب رسالت مآب نے زور سے منع فرمایا۔ اور منہ سے نکلوا دی۔ ( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب ۔ حصہ اول صفحه ۳۴)