حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 56
حقائق الفرقان ۵۶ سُورَةُ التَّوْبَة انکار کیا اللہ اور اس کے رسول کا ، نماز کو نہیں آتے مگر سستی مارے اکسائے ہوئے اور خرچ بھی کرتے ہیں تو نفرت اور کراہت سے۔ تفسیر - وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى - یہ كَفَرُوا بِاللهِ وَ بِرَسُولِہ کا ثبوت دیا ہے۔ ایمانی حالت کا اندازہ اعمال سے ہوتا ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۱ نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱۱۶) ۵۵ - فَلَا تُعْجِبُكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ تَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَفِرُونَ - ترجمہ۔ تو تو ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کر ( کیونکہ ( اللہ نے ارادہ ہی کر لیا ہے کہ اس مال اور اولاد کے ذریعہ ان پر عذاب کرے اس دنیا کی زندگی میں اور ان کی جان ایسی حالت میں نکلے کہ وہ کافر ہی ہوں ۔ تفسير - لِيُعَذِّبَهُم بِهَا۔ بیٹے مسلمان ہوں گے۔ اور ان کے مال اللہ کی راہ میں دے دیں گے جس سے کفار باپوں کو دکھ ہوگا۔ تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۵۷) ٢٠ - إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَ الْمَسْكِينِ وَ الْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً منَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ - ترجمہ ۔ ۔ صدقات تو فقیروں اور بے سامانوں اور دینی کارکنوں ہی کا حق ہے اور دلوں کو دین کی طرف مائل کرنے میں اور غلام مومنوں کے آزاد کرانے اور جرمانوں (اور قرضوں) کی ادائی میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا بڑا حکمت والا ہے۔ تفسیر الصدقت ۔ اس سے مراد یہاں زکوۃ کاروپیہ ہے۔ اس کے مصارف بیان فرماتا ہے۔ لِلْفُقَرَاءِ ۔ یہ فقیر کی جمع ہے جس کے معنے ہیں محتاج ۔ یہ کئی قسم ہیں ۔ مثلاً کوئی شخص یوں تو دولت مند ہے مگر اتفا قاریل کے سٹیشن پر اس کے پاس روپیہ نہ رہا۔ تو اس وقت وہ فقیر ہو گیا۔ گویا ایک وقت ایسا آ گیا کہ محتاج ہو گیا۔ وَالْمَسْكِينِ ۔ جو ہاتھ پاؤں نہ چلا سکے۔ یہ بھی کئی قسم ہیں ۔ مثلاً ایک جلد ساز ہے اور اس کے