حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 469
حقائق الفرقان ۴۶۹ سُورَةُ الْكَهْفِ قرن کے معنے شجاعت وقوت کے ہیں۔ جانوروں کے سینگ کو بھی قرن اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سینگ ان کی قوت میں مدد دیتے ہیں۔ مید و فارس کے بادشاہ چونکہ دو ملتیں اپنے ماتحت رکھتے تھے اور بلاد کی ماتحتی سے بادشاہوں کو قوت ہوتی ہے۔ اس لئے ان کے بادشاہوں کو خصوصا اُن کے پہلے بادشاہ کو ذوالقرنین کہا ہے۔ دیکھو دانیال باب ۸ آیت ۴۔ اور اس کے ساتھ آٹھ باب کی آیت ۲۰۔ جس میں تفصیل کی ہے اور سکندر رومی کو دانیال کی کتاب میں ایک سینگ کا بکرا کہا ہے۔ دیکھو دانیال باب ۸-۶ اور آیت ۲۱ جس کا ترجمہ یہ ہے وہ بال والا بکرا یونان کا بادشاہ اور وہ بڑا سینگ جو اس کی آنکھوں کے درمیان ہے۔ سو اس کا پہلا بادشاہ ہے۔ یہ وہی میخوار سکندر ہے۔ جس نے تمہارے ملک کو بھی زیروز بر کر دیا تھا اور مکہ معظمہ اس کی دست و برد سے محفوظ رہا۔ گو بد قسمت مسلمانوں کیلئے اس کے مشیر سلطنت ارسطو کی غلط منطق اور اس کا وہمی فلسفہ اب تک نو جوانانِ اسلام کا بر باد کن اور موجب جہالت ہو رہا ہے۔ کاش وہ ردّ المنطقیین شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تحریم المنطق امام سیوطی کو پڑھیں یا کم سے کم غور کریں کہ ان کو ایسی منطق سے دین و دنیا میں کیا مل رہا ہے جس کو پڑھتے ہیں۔ غرض اس مید و فارس کے بادشاہوں سے پہلے اس بادشاہ نے اپنی حفاظت کے لئے بہت سی تدبیریں کیں ۔۔۔۔۔ اس نے دور دراز ملکوں کا سفر کیا اور ملک کی دیکھ بھال کی ۔ اس کے مغرب کی طرف اس وقت دلدلیں کنارہ ہائے بحیرہ خضر تھیں۔ اس وقت جہاز رانی کا پورا سامان کہاں تھا اور کناروں پر ایسے عمدہ گھاٹ کہاں تھے۔ جیسے اب روز بروز ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہاں تم لوگوں کا احمقانہ خیال ہے کہ پرانے زمانہ میں ہی سٹیمر، تار وریل وغیرہ فنون تھے ۔ اور ان کے موجد آریہ ورتی تھے۔ جس لفظ کا ترجمہ تم نے جا کر دیکھا کیا ہے ۔ وہ لفظ وَجَدَهَا تَغْرُبُ ہے۔ اس کے معنے ہیں اس نے سورج کو ایسا معلوم کیا اور اس کی آنکھ سے ایسا معلوم ہوا کہ وہ دلدل میں ڈوبتا ہے۔ اب سوچو یہ لفظ ایسا صاف ہے کہ اس میں ذرا اعتراض کا موقع نہیں ۔ اس نظارہ کو ہر شخص ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ سورج اُسے اگر جنگل میں ہو تو درختوں میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ اور اگر