حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 470
حقائق الفرقان ٤٧٠ سُورَةُ الْكَهْفِ سمندر میں ہو تو پانی سے نکلتا اور آخر پانی میں ہی ڈوبتا نظر آتا ہے۔ ایسے بدیہی نظاروں پر اعتراض کرنا سوائے اندھے کے اور کس کا کام ہے۔ ایک قابل قدر لطیفہ اور باریک نکته: الْقَرْنُ مِنَ الْقَوْمِ سَيَّدُهُمْ - قرن سردار کے معنی میں بھی آتا ہے اور قرن سو برس کو بھی کہتے ہیں۔ یہ امر صاحب قاموس اللغہ نے بھی لکھا ہے۔ یہ معنی بہ نسبت اور معنوں کے جو زمانہ کے متعلق اہلِ لغت نے کئے ہیں بہت صحیح ہیں ۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم نے ایک غلام ( جوان یالڑ کے ) کو کہا تھا عِش قَرْنا تُو ا یک قرن زندہ رہ تو وہ ایک سو سال زندہ رہا۔ اور علی رضی اللہ عنہ کو بھی ذوالقرنین کہتے ہیں ۔ کیونکہ نبی کریم نے فرمایا ہے ان لك بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّكَ لَذُو قَرْنَيْهَا که تو دونوں طرف جنت کا بڑا بادشاہ ہوگا ۔ ظاہر میں تو یہ بات اس طرح صادق ہو گئی کہ آپ اپنے عہد مبارک میں عراقین کے مالک تھے اور دجلہ و فرات و جیحون وسیمون آپ کے تحت حکومت تھے۔ اور اب بھی مدعیان اتباع مولی مرتضیٰ علیہ السلام ہی اس ملک کے اکثر حصہ کے مالک و حاکم ہیں۔ اور صحیح مسلم میں اس ملک کو جنت عدن کہا ہے پس ان روایات سے جن کو لغت والوں نے بیان کیا ہے ذوالقرنین کے معنی وسیع ہو گئے یہاں تک کہ اس امت میں بھی ایک ذوالقرنین گزرا۔ اب ہم اپنے عہد مبارک میں جو دیکھتے ہیں۔ تو اس میں ایک امام ہمام اور مہدی آخرالزمان عیسی دوران کو پاتے ہیں کہ وہ بلحاظ اس معنے قرن کے جس میں سو برس قرن کے معنی لئے گئے ہیں ذوالقرنین ہے۔ جیسے ہمارے نقشہ سے ظاہر ہے اور اس قدر دونوں صدیوں کو اس ذوالقرنین نے لیا ہے کہ ایک سعادت مند کو اعتراض کا موقع نہیں رہتا بلکہ حیرت اور یقین ہوتا ہے کہ یہ کیسی آیۃ بینہ اور دلیل نیز اس امام کیلئے ہے۔ اور اس ذوالقرنین نے بھی نہایت مستحکم دیوار دعاؤں اور حج و دلائل نیرہ کی بلکہ یوں کہیں کہ مسئلہ وفات مسیح اور ابطال الوہیت مسیح کی بنادی ہے کہ اب ممکن ہی نہیں ۔ یا جوج ماجوج ہماری جنت اسلام پر حملہ کر سکیں اور کبھی اس میں داخل ہو سکے۔ فجزاہ اللہ پر ہو احسن الجزاء عن الاسلام والمسلمین سعدی نے مال و زر کو بھی سڈ بنایا تھا مگر وہ سڈ کیا سد