حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 454
حقائق الفرقان لد ولد سُورَةُ الْكَهْفِ تفسیر - جبال سے مراد بادشاہ اور بڑے بڑے سردار ہیں ۔ جو عذاب النبی کے باعث ان کا نام و نشان مٹے ۔ اور ظاہری پہاڑ بھی ہوں تو کیا عجب ہے۔ آخر تمام مخلوق میں تغیر آ رہا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۱ ، ۲۲ مورخه ۱۷، ۲۴ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۸) نسيرُ الجِبَالَ - سلطنتیں بڑی بڑی ہوں گی مگر آخراڑیں گی۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۵) ۵۰۔ وَوُضِعَ الْكِتَبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُولُونَ يُوَيْلَتَنَا مَالِ هُذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَ لَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصُهَا ۚ وَ وَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا - ترجمہ ۔ اور نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والوں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس چیز سے جو اس میں تحریر ہے اور بولیں گے ہائے ہمارے ستیا ناس و خرابی یہ کیسی کتاب ہے کہ چھوڑتی ہی نہیں نہ کوئی چھوٹی بات نہ بڑی مگر اس نے سب کو گھیر لیا اور وہ پائیں گے جو کچھ انہوں نے کیا تھا موجود اور تیرا رب تو کسی پر کچھ ظلم کرے گا ہی نہیں ۔ تفسیر - الكتب - اعمال نامہ ۔ الْمُجْرِمِينَ ۔ جناب النبی سے قطع تعلق کرنے والے لوگ ۔ - - مُشْفِقِينَ ۔ ڈرنے والے۔ اس ملک میں چونکہ عربی زبان کا مذاق نہیں رہا۔ اس واسطے عموماً خطوں میں شفیق کی بجائے مشفق کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً ۔ ہر ایک گناہ کا ایک ابتداء ہوتا ہے۔ پھر اس کے مراتب تدریجی ترقی کے ہوتے ہیں۔ وہ صغیرہ ہیں اور ایک بدی کا انتہا ہے وہ کبیرہ ہے۔ مثلاً نظر بد صغیرہ ہے اور اس کا آخر نتیجہ زنا کبیرہ ہے۔ صوفیائے کرام نے مشاہدہ سے لکھا ہے کہ ارتکاب بدکاری کے بعد دل کے اوپر ایک سیاہ دائرہ نظر آتا ہے۔ جس سے ملائکہ نفرت کرتے ہیں اور شیطان محبت ۔ پھر ایسے شخص کا تعلق آہستہ آہستہ