حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 452

حقائق الفرقان ۴۵۲ سُورَةُ الْكَهْفِ ۴۱ - فَعَسَى رَبِّي أَنْ يُؤْتِينِ خَيْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ يُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا - ترجمہ ۔ تو امید ہے کہ میرا رب مجھ کو دے دے گا تیرے باغ سے بہتر باغ اور اس تیرے باغ پر بھیج دے آسمان سے عذاب پس وہ صفا چٹ میدان بے گیاہ پھسلوان ہو کر رہ جائے ۔ تفسیر - خَيْرًا مِنْ جَنَّتِكَ - چنانچہ حمدیوں کو عراق عرب، عراق عجم ،مصر، یورپ، ایران ملا۔ - تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۴۶۵) اس رکوع شریف سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو نہیں چاہیے کہ کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ ورنہ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۱ ، ۲۲ مورخه ۱۷، ۲۴ مارچ ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۵۸) ۴۶ - وَاضْرِبُ لَهُم مَّثَلَ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا كَمَاءِ انْزَلْتُهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مقْتَدِرًا - ترجمہ ۔ اور بیان کر دے زندگی کی مثال کہ پانی کے جیسی ہے جس کو ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ساتھ مل گئی زمین کی روئیدگی آخر کار چورا چورا ہو گئی کہ اس کو اڑائے پھرتی ہیں ہوائیں اور اللہ ہر شے پر بڑا قابورکھنے والا ہے۔ تفسیر ۔ اس رکوع میں مخاطب یہود نہیں ہیں کیونکہ نہ تو وہ کوئی اتنے بڑے دولتمند ہیں۔ اور نہ ملکوں کے مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اور آپؐ کی امت کو مخاطب کرتا ہے۔ بلکہ خصوصیت سے مسلمان مثلاً بنوامیہ و بنو عباس مخاطب ہیں کہ اب تم اس باغ ( ملک کنعان ) کے مالک بننے والے ہو۔ دیکھو کوئی ایسا کام نہ کرنا جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو جائے۔