حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 447 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 447

حقائق الفرقان ۴۴۷ سُوْرَةُ الْكَهْفِ حسب بیان مرقس ایک ہی بیٹے رہ گئے ۔ بنی اسرائیل میں کامل صلح مسیح میں تھی ۔ اور اسی سے بنی اسرائیل کے گھرانے کی نبوت و رسالت کا خاتمہ ہو گیا ۔ خدا کے فرزند کا محاورہ دیکھنا ہو تو دیکھو مبحث الوهیت مسیح ، وہاں ثابت کیا ہے ۔ حسب محاورہ کتب مقدسہ فرشتے خدا کے بیٹے ہیں۔ ایوب ا باب ۶ اور انبیاء اس کے بیٹے۔ ایوب ۳۸ باب ۷ ۔ اور بدکار خدا کے بیٹے یسعیاہ ۳۰ باب ۱ ۔ سب فرزند یوحنااا باب ۲۵۔ اب مار ڈالا کی تحقیق سن لو۔ یہاں سخن اب مار ڈالا کی تحقیق سن لو۔ یہاں سخت ایذا کو مار ڈالنا کہا ہے کیونکہ مکاشفات ۵ باب ۶ میں ہاں سخت ایڈ کو مار کہا ہے کیونکہ ۵ ہے۔ گو یا ذبح کیا۔ یہودی کہتے ہیں ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا قتل کے تو عیسائی بھی منکر ہیں۔ پر قرآن کا مسیح کے قصے میں یہ کہنا ما قَتَلُوهُ ( النساء - ۱۵۸) بالکل سچ ہوا اور بعض یہود کہتے ہیں ہم نے صلیب دی اور یہ بھی غلط ہے۔ اس زمانے کی سولی یہ نہ تھی ۔ جیسے اس وقت ہوتی ہے۔ بلکہ آدمی کو کسی لکڑی پر ٹانگ دیتے تھے اور مصلوب بھوکا پیاسا ایذائیں پاتا مدت کے بعد مر جاتا تھا۔ اگر جلد اُتارتے تو ہڈیاں توڑ ڈالتے ۔ حضرت مسیح جلد اُتارے گئے۔ مسیح کی ہڈیاں توڑی نہیں گئیں ۔ پس قرآن کا یہ کہنا وَمَا صَلَبُوهُ (النساء: ۱۵۸) بالکل سچ ہو گیا۔ عربی میں مصلوب اُسی کو کہتے ہیں جس کی پیٹھ کی ہڈی توڑی جاوے۔ دیکھو قاموس لغت صلب اور مسیح ہڈی توڑنے سے محفوظ رہے۔ دیکھو یوحنا ۱۹ باب ۳۳۔ بات یہ ہے حاکم مسیح کا حامی تھا دیکھو اس نے ہاتھ دھوئے اور کہا۔ میں اس راست باز کے خون سے پاک ہوں ۔ متی ۲۷ باب ۲۴۔ حاکم کی عورت حامی اور مددگار تھی۔ خصم کو کہتی ہے مجھے اس راستباز سے کام نہ ہو۔ متی ۲۷ باب ۱۹ صوبے دار اور یسوع کے نگہبان بھی حامی اور وہمی تھے۔ اور پھر عیسائی ۔متی ۲۷ باب ۵۴۔ یوسف نام آرمیتہ کا دولتمند ۔ سائیڈرم مجلس شاہی کا ممبر بھی حامی ۔ متی ۲۷ باب ۵۷۔ اور شاگرد منتظر بادشاہت تھا۔ مرقس ۱۵ باب ۴۳ - لوقا ۲۳ باب ۵۰ ۔ یہود کے خوف سے خفیہ رہتا یوحنا ۱۹ باب ۳۸ اس شخص نے لڑکانے کے چند گھنٹے کے بعد جب اندھیرا ہوا ۔ بادشاہ سے کہا کہ یسوع مر گیا ہے۔ لاش لے وہ ملعون ثابت نہ ہوا۔