حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 35

حقائق الفرقان ۳۵ سُورَةُ التَّوْبَة مانگے اسے پناہ دو۔ پھر شریر کہتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۱۴) -۶- وَ إِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلِمَ اللَّهِ ثُمَّ ابْلِغْهُ مَامَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ - ترجمہ ۔ اور اگر کوئی مشرک تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دے یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچادے۔ یہ سلوک اس وجہ سے کہ وہ نادان قوم ہے۔ تفسیر - مامنه - اس کے امن کی جگہ جیل خانہ یا قتل مراد نہیں ۔ - تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۵۷) - كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ وَ عِنْدَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عُهَدتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ - ترجمہ۔ مشرکوں کو عہد و پیمان کس طرح ہو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مگر ہاں جن سے تم نے اقرار کیا تھا تعظیم والی مسجد کے پاس تو وہ جب تک کہ تم سے اقرار پر قائم رہیں تو تم بھی ان سے اقرار پر قائم رہو۔ بے شک اللہ دوست رکھتا ہے متقیوں کو ۔ تفسیر نقض عہد بہت بری بات ہے۔ قرآن شریف کے تیسرے رکوع ہی میں ہے وَمَا يُضِلُّ بِهَ إِلَّا الْفُسِقِينَ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللهِ (البقرۃ:۲۸،۲۷) میں بھی لوگوں کے عہد لیتا ہوں ۔ عہد کے بعد میں کانپ جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اس سے کوئی معاہدہ نہ لوں تا کہ ایسا نہ ہو کہ اس میں نفاق آ جائے۔ میں تمہیں معاہدہ پر قائم رہنے کی سخت تاکید کرتا ہوں ۔ موت کے وقت یہ اولاد، یہ دوست ، یہ جتھے کبھی کام نہیں آتے ۔ پس خدا سے اپنا معاملہ صاف رکھو۔ لے اور وہ تو گمراہ نہیں کرتا اس سے کسی کو مگر بدکار (گمراہ ہوتے ہیں ) ۔ جو لوگ توڑتے ہیں اللہ کے اقرار کو۔ معاہدہ بیعت مراد ہے۔ مرتب