حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 420
حقائق الفرقان ۴۲۰ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ اسی کو بھول گئے اور چھوڑ دیا اور ایسے مطالبے کئے جن سے وہ کچھ فائدہ نہ اٹھائیں۔ اب دیکھ لے۔ ا کہ موسیٰ تو اپنی قوم کو وعدہ کی زمین نہ پہنچا سکے اور ان کی قوم کو بجائے چشمے اور نہروں کے ایک جنگل میں ۴۰ سال خراب ہونا پڑا ۔ مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم اس زمین میں پہنچی جس میں چشمے اور انہار اور باغات تھے ۔ کیا وہ جنات عدن نہیں جن میں جیحوں اور سیجوں بہتے ہیں ۔ دجلہ اور فرات ہیں ۔ نیل ہے۔ بنی اسرائیل کی اراضی کی ان سرزمینوں کے سامنے کیا حقیقت ہے جن میں امت محمدیہ پہنچی۔ ۲۔ کیا اللہ نے اپنے رسول کی حفاظت نہ فرمائی۔ ٹھیک اس وقت جب آپ مکہ سے نکلے ۔ کیا آپ کو مدینہ میں نہ پہنچایا۔ ۔ کیا فرشتے آپ کی نصرت کو نازل نہ ہوئے اور کیا مواطن کثیرہ میں آپ کے صدق کی شہادت بذریعہ ملائکہ نہ دی گئی۔ یہاں تک کہ عراقین، شام، مصر فتح ہو گئے جن کو بنو اسرائیل نہ کر سکے۔ کیا فرشتے بدر، حنین اور احزاب میں نازل نہ ہوئے۔ ۴۔ کیا آپ کے اور آپؐ کے اصحاب کے ہاتھ میں کتاب نہیں۔ جسے پڑھتے ہیں ۔ کیا یہ کتاب آسمان سے نازل نہیں ہوئی۔ ۵۔ کیا فدک کے جنت ہونے میں کچھ کلام ہے۔ اور کیا خیبر اور طائف کے باغات آپؐ کے قبضہ میں نہ آئے ۔ ہاں وہ بشر رسول تھا۔ اس لئے یہ آیات اسی سنت اور اندازے کے ماتحت دی گئیں جو رسولوں کے ساتھ ابتداء سے اس کا طریق چلا آیا ہے۔ خدا نے آپ پر یہاں تک فضل کیا کہ مکہ اور مدینہ میں بھی نہر آ گئی جیسا کہ یسعیاہ ۴۱/۱۸ میں ہے” میں ٹیلوں پر نہریں اور وادیوں میں چشمے کھولوں گا۔ میں صحرا کو تالاب اور سوکھی زمین کو پانی کی نہریں کر دوں گا۔ میں بیابان میں دیودار اور ببول اور آس اور بلسان کے درخت اگاؤں گا“ اور تمام وعدے پورے دیئے جو یسعیاہ ۴۲ و ۶۰ میں ہیں ۔ تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۸ - ماه اگست ۱۹۱۳ ء صفحه ۳۹۹ تا ۴۰۳)