حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 419 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 419

حقائق الفرقان ۴۱۹ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ بڑے کے حضور کھڑی ہیں ۔ پس ان آیات کی بناء پر چشمے اور باغات کا مطالبہ کیا اور خروج کے باب ۲۵ میں موسیٰ ! کے لئے بہت سے نذرانوں کا ذکر ہے۔ جس میں آیت ۱۱، ۱۲ میں سونے کا بھی ذکر ہے جس کی بناء پر انہوں نے بیت زخرف کا مطالبہ کیا۔ اور خروج باب ۱۹ میں ذکر ہے کہ خدا نے فرمایا۔ دیکھو میں اندھیری بدلی میں تجھ پاس آتا ہوں ۔۔۔۔۔ اور جو کوئی پہاڑ کو چھوئے گا ۔ البتہ جان سے مارا جائے گا۔ اور باب ۲۰ میں ہے۔ بادل گرجے بجلیاں چمکیں ۔ قرنائی کی آواز ہوئی ۔ پہاڑ سے دھواں اُٹھا ۔ تب انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہی ہم سے بول اور ہم سنیں لیکن خدا ہم سے نہ بولے کہیں ہم مر نہ جائیں ۔ اس بناء پر انہوں نے تُسْقِطَ السَّماء طلب کیا۔ اور باب ۱۹ آیت ۱۱ میں ذکر ہے کہ اور تیسرے دن تیار رہیں کہ خداوند تیسرے دن سارے لوگوں کی نظر میں کوہ سینا پر اتر آئے گا ۔ اس بناء پر انہوں نے تاتی باللہ کہا۔ اور خروج ۲۳ آیت ۱۰ میں ہے ”دیکھ میں ایک فرشتہ تیرے آگے بھیجتا ہوں کہ راہ میں تیرا ا نگہبان ہو اور تجھے اس جگہ جو میں نے تیار کی ہے لے آئے اس بناء پر انہوں نے وَ الْمَلِئِكَةِ قبیلا کہا۔ وو اور خروج کے باب ۱۹ آیت ۳ میں ہے تب موسیٰ خدا پاس چڑھا اور خداوند نے اسے پہاڑ سے بلوایا اور باب ۲۰ آیت ۲۱ میں ہے۔ ” تب وہ لوگ دور ہی کھڑے رہے اور موسیٰ کالی بدلی کے جس میں خدا تھا نزدیک گیا، اس لئے انہوں نے اَوْ تَرْقُى في السماء کہا کہ سماء پر چڑھ جائے اور کتاب لے آئے۔ اور چونکہ خروج باب ۱۹ میں ۳ سے ۲۰ تک اس سماء پر چڑھنے کی حالت میں احکام لانے کا ذکر ہے اس لئے چاہا کہ آپ بھی مثیل موسیٰ ہونے کے مدعی ہیں ۔ سماء میں پر چڑھ کر کتاب لائیں۔ تعجب ہے کہ پہلا حکم تو ان کو یہ تھا کہ میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو۔ تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی مورت جو او پر آسمان پر ہو یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا“