حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 421

حقائق الفرقان ۴۲۱ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ جب کفار مکہ نے آپ سے سوال کیا کہ تو آسمان پر چڑھ جا تو خود خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کو ارشاد کیا کہ یوں جواب دو۔ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا تو کہہ میرا رب ایسے ناجائز سوالوں کے جواب اور ایسی لغو حرکات سے پاک ہے کہ اپنی سنت کو توڑے۔ یہ اس کی مصلحت کے برخلاف ہے۔ میں تو بشر رسول ہوں اور بشر رسول کا آسمان پر بجسم عنصری جانا سننِ الہیہ کے خلاف ہے۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۲۶، ۱۲۷) ٩٦ - قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَيْكَةٌ يَمْشُونَ مُطْبَنِينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا - ترجمہ ۔ تو کہہ دے اگر زمین میں فرشتے ہی ہوتے جو اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم اتارتے ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام بر بنا کر۔ تفسیر ۔ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَليكة ۔ اس سے ظاہر ہے کہ واعظ بھی اگر ہو تو اس قوم کے رسم و رواج، عادات، حالات ، زبان سے خوب واقف ہو۔ مُطنِينَ ۔ میں ایک نکتہ ہے کہ کسی قوم میں خود تفرقہ ، جنگ ، فساد پڑ رہا ہو تو پھر ان کو کوئی کیا سمجھائے گا ۔ اور وہ کیا سمجھیں گے؟ چنانچہ مکہ کی نسبت خود فر ما یا ۔ قَرْيَةً كَانَتْ أَمِنَةً مُطْمَئِنَّةٌ (النحل : (۱۱۳) عرب کی اصلاح کے لئے اس وقت رسول مبعوث فرمایا۔ جب وہ اطمینان کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اسی اصول پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے۔ چنانچہ جب کسی کو دیکھا کہ وہ اطمینان میں خلل انداز ہے۔ تو اس کو جلا وطن کر دیا۔ میرے رہے۔ نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کہ خدا شرے برانگیز د۔ خدا تعالیٰ کوئی شر نہیں اٹھاتا۔ آدمی خود ایسا کرتے ہیں۔ سوال ۔ ہاروت ماروت بنی اسرائیل کی طرف آئے۔ اس وقت وہ بنی اسرائیل غیر مطمئن تھے؟ لے ایک بستی تھی امن چین کی۔