حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 418
حقائق الفرقان ب۔ ۴۱۸ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ وَاللَّهُ مِنْ وَرَابِهِمْ مُحِيطٌ ( البروج : ۲۱) ج فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ - سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ نِيَةَ (العلق : ۱۸-۱۹) گلا اور قبیلا یعنی شہادت کے یت ہے۔ وَالْمَلَئِكَةُ يَشْهَدُونَ وَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (النساء: ۱۶۷) لئے یہ آیت ہے۔ و ۔ اور آسمان پر جانے کا مطالبہ اس آیت کی بناء پر کیا۔ کے ا - وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (العلق : ۴ تا ۶ ) پس ضرور ہے کہ آپ اس کے پاس جائیں۔ اور کتاب اتارنے کا اس آیت کی بناء پر رَسُولٌ مِّنَ اللهِ يَتْلُوا حُفًا مُطَهَّرَةً - فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ (البينه : ۳، ۴) اور ہم پڑھ لیں کا مطالبہ اس آیت کی بناء پر تھا۔ قُرْإِنَّا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (الزخرف: ٣) اور قوله تعالى- اقْرَأْ كِتَبَكَ (بنی اسرائیل: ۱۵) کفار نے اغواء یہود سے یہ مطالبے کئے ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنے آپ کو مثیل موسی فرمایا تھا۔ اور موسی کے لئے جو کچھ تو رات میں آیا یا آنے والے نبی کی نسبت جو پیش گوئیاں تھیں وہ آپ کی ذات میں پوری ہونی چاہیے ۔ چنانچه استثناء ۸ آیت ۸ میں ہے کیونکہ خداوند تیرا خدا تجھے ایک نفیس زمین میں داخل کرتا ہے ایسی زمین جہاں پانی کی نہریں اور چشمے اور جھیلیں جو وادیوں میں سے اور پہاڑوں سے نکلتی ہیں اور ایسی زمین جہاں گیہوں اور جو اور انجیر اور انار ہوتے ہیں۔ ایسی زمین جہاں زیتون کا تیل اور شہد ہوتا۔ اور مکاشفہ باب ۷ آیت 9 میں ہے۔ اور خرما کی ڈالیاں ہاتھوں میں لئے اس تخت کے آگے اور ے اور اللہ ان کو آگے چل کر گھیر لے گا۔ ہے چاہیے کہ وہ بلا لیں اپنے ہم نشینوں کو ۔ ہم بھی اب بلائے لیتے ہیں آتشی فرشتوں کو۔ سے اور فرشتے گواہ ہیں۔ اور گواہی کے لئے اللہ ہی بس ہے۔ ہے اور تیرا رب بہت بزرگ ہے۔ جس نے علم سکھا یا قلم کے ذریعہ سے۔ سکھا یا انسان کو جو وہ جانتا نہ تھا۔ ہے یعنی اللہ کی طرف سے رسول جو پاک صحیفے پڑھتا ہو۔ جس میں پائدار کتابوں کی صداقتیں ہیں۔ 1 قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھو۔ کے اُسے حکم ہوگا کہ تو اپنی کتاب پڑھ لے۔