حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 417 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 417

حقائق الفرقان ۴۱۷ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ ج - إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَلٍ وَعُيُونٍ وَ فَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ ا يَشْتَهُونَ (المرسلت: ۴۲، ۴۳) یعنی جب عام متقیوں کے ساتھ سایوں اور چشموں کا وعدہ ہے تو آپ کو تو امام المتقین ہونے کا دعوئی ہے۔ آپ اپنا ایک ہی چشمہ دکھائیے۔ د پھر خدا تعالیٰ آپ کو خطاب فرماتا ہے ۔ وَوَجَدَكَ عَابِلا فَاغْنى (الضحی : 9) اور و : ۹) اور وَ رَفَعْنَا لك ذكرك (الم نشرح :(۵) پس ضرور ہے کہ اظہا ر غنا اور رفع ذکر کم از کم کسی سونے کے گھر ہی سے ہو۔ ه - تَبْرَكَ الَّذِي إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ وَ يَجْعَلْ لَكَ قُصُورًا (الفرقان : 11 ) ۔ ۲۔ اور آسمان کا ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنا اس آیت کی بناء پر ۔ ا - وَ إِنْ يَرَوْا كِسْفًا مِنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُومٍ فَذَرْهُمْ حَتَّى يُلْقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ ( الطور:۴۶،۴۵)۔ ب - إِنْ نَّشَأْ نَخْسِفُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ تُسْقِطْ عَلَيْهِمْ لِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ (سبا: ١٠)۔ اور اللہ اور فرشتوں کا آنا اس آیت کی بناء پر۔ ا - وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ( الفجر : ٢٣) لے بے شک جو اللہ سے ڈرنے والے اور اسی کو سپر بنانے والے ہیں وہ سایوں اور چشموں ۔ اور حسب خواہش میووں میں ہوں گے۔ ۲۔ اور تجھے بہت جو رو بچے والا پا یا پھر اس نے تجھے غنی کر دیا۔ سے اور تیرے ذکر کو بلند کیا۔ ۴۔ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے چاہ لیا ہے کہ تجھے بڑھ بڑھ کر دیں گے اس سے بھی یعنی خزانے ۔ باغ اور ایسے باغ بہہ رہی ہیں جن میں نہریں اور پختہ اور بلند محل تیرے لئے بنائیں گے۔ ۵۔ اگر دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا تو کہنے لگیں یہ تو بادل ہے تہ بہ تہ۔ پس ان کو چھوڑ دے جب تک کہ یہ ملیں اپنے اس دن سے جس دن وہ ہلاک کرائے جائیں گے، بے ہوش کر دیئے جائیں، موت آجائے گی ۔ ۔ تو ہم چاہیں گے تو ان کو زمین میں ذلیل کر دیں گے یا ان پر ڈال دیں گے تہہ بہ تہ مصیبت آسمان سے ۔ کے اور تیرا رب تشریف فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف کھڑے ہوں گے۔