حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 415 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 415

حقائق الفرقان لدان سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا - آه - نو چیزیں انہوں نے مانگی ہیں ۔ بد قسمتی سے لوگوں نے سمجھا ہے کہ یہ باتیں پوری نہیں ہوئیں۔ اس لئے طرح طرح کی بدگمانیاں کی ہیں۔ ذرا بھی تدبر کرتے تو معلوم ہو جاتا کہ یہ باتیں بطور سوال صحیح پیش ہوئیں ۔ پارہ اول میں ہے اَنَّ لَهُمْ جَنَّتِ (البقرۃ:۲۶) یعنی مومن کے لئے جنات ہوں گے۔ جس میں کھجور انگور سب آگئے۔ اسی میں آیا ہے۔ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الانهر (البقرة : ٢٦) پھر خدا نے ہی فرما یا هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلائِكَةُ (البقرة : ۲۱۱) پھر ایک جگہ فرمایا ہے ۔ مُتَكِيْنَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ اسْتَبْرَقٍ وَجَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانِ (الرحمن : (۵۵) پھر فرمایا فِيهِنَّ قُصِرْتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَان (الرحمن : (۵۷) اور فرما یا فِيهِنَّ خَيْرُتُ حِسَانَ ) (الرحمن: (۷) L پھر سورۃ واقعہ میں اشارہ کیا۔ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ (الواقعة : ۱۸ ) ۔ اے) غرض جب قرآن مجید میں ایسے ایسے تمام دعوے تھے۔ تو پھر اگر انہوں نے ایسا مطالبہ کیا۔ تو کیا بے جا کیا۔ جواب دیکھو کیسا صحیح ہے کہ اے نبی کہہ دے۔ میرا رب پاک ہے۔ اس نے جھوٹے وعدے نہیں کئے ۔ ضرور ایسا ہوگا۔ مگر میں بشر رسول ہوں ۔ چنانچہ جب صحابہ نے عراق ، عجم ، شام ، عدن فتح کیا تو صحابہ کے قبضہ میں بادشاہوں کے گھر آئے ۔ ان کی بیٹیاں بھی نکاح میں آ گئیں ۔ گھر بھی سونے چاندی کے تھے ، باغات بھی تھے۔ بلکہ مدینہ مکہ میں بھی نہریں آئیں ۔ خدا کا ان پر عذاب بھی آیا۔ ملائکہ بھی نصرت کو آئے آپ کو معراج بھی ہوا ۔ قرآن ایسی کتاب بھی ملی ۔ غرض سب کچھ ے پھر رہی ہیں نہریں اُن میں ۔ ۲ کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ خود اللہ آجاوے ان کے پاس ابر کے سائبانوں میں اور فرشتے ۔ سے فرشوں پر تکیے لگائے ہوں گے جن کے استر تافتہ کے ہیں اور دونوں باغ میووں کے بوجھ سے جھکے ہوئے پاس ہوں گے۔ ۴ نیچی آنکھ والی عورتیں ہیں جن کو ان سے پہلے کسی انسان نے چھوانہ کسی جن نے۔ ہم ان میں بہت سی خوبصورت نیک سیرت عورتیں ہیں۔ 1 ان کے آس پاس پھرتے رہیں گے بچے جو سدا رہیں گے۔