حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 406 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 406

حقائق الفرقان ۴۰۶ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ امرنا (الشوری: ۵۳) یہاں بھی روح سے مراد کلام الہی ہے۔ رت مسیح کے حق میں اید نهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ( البقرۃ:۸۸) جو آیا ہے۔ اس سے مراد کلام الہی ہی ہے۔ ایک اور دلیل اس بات کی کہ یہاں روح سے مراد کلام الہی ہے۔ یہ ہے کہ اس سے پہلے تین آیت قرآن مجید کا ذکر ہے۔ کہ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاء " (بنی اسرائیل : ۸۳) فرمایا اور پھر اس کے بعد بھی قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِن (بنی اسرائیل: ۸۹) میں قرآن مجید ہی کا ذکر ہے ۔ جس سے صاف کھل گیا۔ یہاں روح سے مراد کلام الہی ہی ہے۔ پھر دیکھو أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ بھی ساتھ ہی فرمایا۔ ন وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا - تنبيها فرمایا کہ تم بڑے ہی بے وقوف ہو کہ کیا تم کلام النبی قرآن اور دوسرے کلاموں میں جن میں احادیث رسول بھی شامل ہیں ۔ بین فرق نہیں پاتے ۔ یہ بہت ہی بے ادبی کا کلمہ ہے کہ صحابہ کو بے علم کہا جاوے۔ گو کہنے والا علامہ کہا جاوے کہ تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے ۔ عام تفاسیر میں یہ بات نہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۹ مورخه ۳ مارچ ۱۹۱۰ صفحه ۱۵۳، ۱۵۴) عن الروح - کلام پاک (قرآن) کے بارے میں۔ مِنْ أَمْرِ رَبِّي - یہ خدا کے حکم سے آیا ہے۔ ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۶۳، ۴۶۴) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے مفسر ہونے پر اہل کتاب نے چند سوال کئے ۔ ایک روح کے متعلق کیونکہ قدم روح کا ایک جہان قائل تھا اور اس اعتقاد نے روح کے غیر مخلوق ماننے میں پھنسا رکھا تھا اسی واسطے یہود نے اور ان کے ساتھ اور لوگوں نے پوچھا۔ روح کی نسبت فرمائیے ۔ جیسے قرآن میں ہے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ پھر ان کے جواب میں حکم ہوا قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي تو کہہ کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے۔ یعنی مخلوق ہے قدیم نہیں ۔ اور لوگوں کو جتایا کہ اگر روح پہلے ے اسی طرح بھیجا ہم نے تیری طرف ہمارے حکم سے ہمارا کلام قرآن مجید ۔ ہے اور ہم قرآن میں سے وہ آیتیں اتارتے ہیں جو شفاء ہیں۔ سے کہہ دوا اگر جمع ہو جاویں غریب اور امیر سب، یا آدمی اور جن۔