حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 407
حقائق الفرقان ۴۰۷ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ سے موجود ہوتی تو اُسے علم بھی ہوتا۔ لاکن دیکھتے ہو۔ وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (النحل : ٧٩) اور اللہ نے نکالا تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے تم کچھ نہ جانتے تھے۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۱۶۵) حیات دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک جسمانی اور دنیوی اور دوسری روحانی اور اخروی ۔ پہلی قسم کی حیات حاصل کرنے کے سامان اگر جڑھ پدارتھ میں اللہ تعالی نے رکھے ہیں تو دوسرے قسم کے حیات کے اسباب باب بھی چتین وَستُو میں ضرور رکھے ہیں۔ قرآن میں دونوں محاوروں کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے سنو! اول جسمانی حیات اور جسمانی زندگی کی نسبت فرمایا ہے۔ ا - وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (البقرة: ۱۶۵) ٢ - وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبْرَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّتِ وَ حَبَّ الْحَصِيدِ ) وَالنَّخْلَ بُسِقَت لَهَا طَلْعُ نَضِيدٌ " (ق: ااا) الخروج : ۱۲) رِزْقًا لِلْعِبَادِ وَ أَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذلِكَ الْخُرُوجُ (ق: ۲ اور روحانی زندگی ۔ دھرم اوکت حیاتی ۔ ایمانی حیات اور دھرم جیون کے بارے میں فرمایا ہے۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال: ۲۵) لے اور اللہ نے نکالا تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے تم کچھ نہ جانتے تھے ۔ ۲ اتارا اللہ نے بادلوں سے پانی اور زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے سے اتارا ہم نے بادلوں سے پانی برکت والا ۔ پھر لگائے ہم نے اس کے ساتھ باغ اور اناج کاٹنے کے اور کھجوریں بلند جن کے خوشے تہ برتہ ہیں ۔ کے رزق ہے بندوں کے لئے اور زندہ کیا ہم نے اس کے ساتھ مردہ شہر کو اسی طرح نکلنا ہے۔ ۵ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف بلاتا ہے جو تمہیں زندگی بخشے ۔