حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 405
حقائق الفرقان لد ٢٠ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ کے فاعل کا پتہ لگ سکتا ہے جیسے اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدہ:9) میں ھو کے مرجع کا ۔ یہ امر نحو کے قاعدے کے مطابق ہے کہ فعل کے مشتق سے اس کا فاعل نکال لیتے ہیں ۔ پس يَسْتَلُونَ کے سائل عام سائل ہیں ۔ پوچھتے ہیں روح سے۔ روح کیا چیز ہے۔ اس کا جواب خود قرآن کریم کی ہی دوسری آیات سے کھلے گا۔ اس زمانہ میں روح کا لفظ مشتبہ سا ہو گیا۔ بعض نے روح سے مراد سول (SOUL) سمجھا ۔ جس سے آدمی کی زندگی وابستہ ہے۔ مگر اگر یہ مراد ہوتی تو ایسا کمزور جواب خالق الارواح کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جبکہ اسلام کے ادنیٰ خادموں میں سے اور شیخ بن قیم حنبلی، امام غزالی نے بھی حقیقت روح انسانی پر مبسوط مضمون لکھا ہے پس در اصل روح کلامِ الہی کو کہتے ہیں۔ پھر کلام الہی کے پہچاننے والے نبی کو۔ اور کلام النبی کے لانے والے ملک کو بھی کہتے ہیں۔ دیکھو سورۃ نحل پارہ ۱۴۔ ا - يُنَزِّلُ الْمَلَيلَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ (النحل: ٣)۔ اس کے صاف معنے ہیں کہ ملائکہ اللہ کے حکم سے جس پر چاہتے ہیں کلام لا اله الا آنا نازل کرتے ہیں۔ ۲۔ سورۃ مومن پاره ۲۴ - رَفِيعُ الدَّرَجَتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلاقِ (المومن : ١٦) یہاں بھی رُوح سے مراد کلام الہی ہے۔ ۔ پھر سورۃ الشوری پاره ۲۵ میں ۔ وَ كَذلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ ے برابر انصاف کرو ۔ وہ تقویٰ کے بہت قریب ہے ۔ ۲ وہی اللہ اتارتا ہے فرشتوں کو کام دے کر آپ ہی جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے کہ ڈرا دو یہ بتا کر کوئی سچا معبود نہیں ہے مگر میں ، تو مجھ ہی کو سپر بناؤ مجھ ہی سے ڈرو۔ سے اللہ تعالٰی درجے بلند کرنے والا عرش کا مالک ہے۔ اپنے ہی حکم سے وحی کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تا کہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے ۔