حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 392
حقائق الفرقان ۳۹۲ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے مکانات برگزیدوں کے قبضہ میں آچکے اور کھجوروں اور انگوروں کے ایسے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ حضور کیا ۔ حضور کے خادمان کے پاس وہاں موجود ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام کے وعدوں سے ( ملک کنعان وغیرہ کی حکومت سے وہ نسل اکثر محروم رہی ) اور حضور کے برکات معجزوں سے آپؐ کی اکثر قوم وعدہ کو دیکھ چکی اور انشاء اللہ یقینا حقیقی کنعان میں بھی پہنچ جائیں گے۔ تیسرا اور چوتھا معجزہ یہ کہ منکروں پر آسمان ٹوٹ پڑے۔ اور اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کی افواج کفار کو تباہ کر دے یہ دونوں معجزہ بھی جن کو کفار نے طلب کیا۔ کتب مقدسہ میں موجود ہیں ۔ دیکھو۔ ” خدا سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا ۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا ۔ وو دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا۔ استثناء ۳۳ باب ۲۔ یہ پیشگوئی نہایت عمدگی سے اس دن پوری ہوئی۔ جس دن حضور علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو فتح فرمایا غور کرو بخاری ( مطبع میرٹھ کا صفحہ ۶۱۳) اور بخاری (مصری کا جلد ۲ صفحہ ۵۰) حضور کے ساتھ اس دن دس ہزار ہاں ٹھیک دس ہزار قدوس اصحابی جن کے ساتھ ملائکہ تھے موجود تھا اور اسی دن مکہ کے کفار پر آسمان ایسا ٹوٹ پڑا کہ وہاں ان کا نام ونشان بھی نہ رہا۔ یادر ہے ۔ ” ہاجرہ عرب کا کوہ سینا ہے۔“ دیکھو نامہ گلیتاں ۴ باب ۲۵۔ پس معنے ہوں گے۔ ہاجرہ کی پشت سے اور فاران خود وادی حجاز کو کہتے ہیں اور شعیر میں دو دفعہ حضور بطور تجار تشریف لے وو گئے اور بدر کی لڑائی میں بھی ملائکہ کا لشکر اسلام کا گہرا مددگار تھا۔ دیکھو قرآن سورۃ آل عمران ۔ پانچواں معجزہ ۔ کہ تیرا گھر بڑا زینت والا ہو۔ یہ کتب مقدسہ سے لیا گیا۔ تیرے پتھروں کو دو سرمہ لگاؤں گا اور تیری بنیاد نیلموں سے ڈالوں گا۔ میں تیری فصیلوں کو لعلوں سے اور تیرے پھاٹکوں میں چمکتے ہوئے جواہر سے اور تیرا سارا احاطہ بیش قیمت پتھروں سے بناؤں گا۔ تیرے سب فرزند بھی خدا سے تعلیم پاویں گے۔“ (یسعیاہ ۵۴ باب ۱۲ ، ۱۳ ) اور اگر ہمارے حضور ۔ ہمارے بادی کا گھر ہی لینا ہے جیسے لفظ بيت لك سے بظاہر معلوم ہوتا