حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 390
حقائق الفرقان ۳۹۰ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ کے ہاتھ سے چھڑاؤں اور اس زمین سے نکال کے اچھی وسیع زمین میں جہاں دودھ اور شہد موج مارتا ہے لے جاوں ۔ کنعانیوں ، حتیوں ، اموریوں ، فرزیوں ، جو یوں ، پیوسیوں کی جگہ میں لاؤں ۔ (خروج ۳ باب ۹،۷)۔ مگر دیکھو۔ یہ وعدہ اس قوم کے حق میں پورا نہ ہوا۔ جنہوں نے فرعون سے دکھ اٹھایا ۔ دیکھو۔ خداوند نے تمہاری باتیں سنیں اور غصہ ہوا اور قسم کھا کے یوں بولا کہ یقینا ان شریر لوگوں میں ایک بھی اس اچھی زمین کو جس کے دینے کا وعدہ میں نے ان کے ان کے باپ دادوں سے قسم کھا کے کیا ہے۔ نہ دیکھے گا۔ مگر یفتہ کا بیٹا کا لب اسے دیکھے گا ۔ ( استثناء اباب ۳۵ تا ۳۶) ۔ ایسے ہی چند معجزات کفار مکہ نے طلب کئے جن کا ذکر ذیل میں ہے۔ وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيلٍ وَ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَرَ خِلْلَهَا تَفْجِيرًا - أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ قَبِيلًا - أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا لِتُبَا تَقْرَؤُهُ ۖ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا - بنى است بنی اسرائیل: ۹۱ تا ۹۴)۔ آیات مرقومہ بالا سے معلوم ہوتا ہے۔ کفار مکہ نے ایسے چھ معجزہ حضرت علیہ السلام سے طلب کئے جو اس وقت سر دست منکروں کو دکھائے نہیں گئے ۔ مگر غور کرو یہ معجزے کیوں طلب کئے گئے اور کیوں انکار فوری ظہور نہ ہوا۔ پہلا معجزہ جس کو کفار مکہ نے طلب کیا ہے کہ الْأَرْضِ یعنی اس خاص مکہ کی زمین میں چشمے چلیں اور دوسرا معجزہ جس کو انہوں نے مانگا یہ ہے۔ لے اور بولے ہم تو تیرا ہرگز یقین نہ کریں گے جب تک کہ ہمارے لئے زمین سے چشمہ نہ بہادے ۔ یا تیرا باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا اور تو ان کے اندر نہریں نہ بہادے۔ یا ہم پر آسمان گرادے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جیسا کہ تو خیال کرتا ہے یا اللہ اور فرشتوں کو لے آسامنے ۔ یا تیرے لئے ہو جائے کوئی سونے کا گھر یا تو چڑھ جائے آسمان میں اور ہم تیرے چڑھنے کا بھی کبھی یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہم پر ایک (لکھی لکھائی ) کتاب اتار لائے جس کو ہم پڑھ لیں۔ جواب دے سبحان اللہ ! میں تو بس ایک بشر بھیجا ہوا ہی ہوں ۔