حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 389
حقائق الفرقان دو ۳۸۹ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ حکم پر حکم حکم پر حکم ۔ قانون پر قانون ۔ قانون پر قانون ہوتا جاتا تھوڑا یہاں ۔ تھوڑا وہاں۔ ہاں وہ وحشی (عربی) کیسے ہونٹوں اور اجنبی زبان سے اس گروہ سے باتیں کرے گا۔“ یسعیاہ ۲۸ باب ۹ ان آیات سے صاف عیاں ہے کہ اس نبی موعود کو جو کلام عطا ہو گا وہ اس نبی کے منہ میں ڈالا جاوے گا اور بتدریج نازل ہوگا۔ کچھ یہاں۔ کچھ وہاں ۔ یعنی کچھ مکہ میں اور کچھ مدینہ میں ۔ کچھ کہیں۔ کچھ کہیں۔ اب قرآن کریم کی طرف نگاہ کرو۔ اس میں ایک جگہ لکھا ہے۔ کافر کہتے ہیں۔ ترقی فِی السَّمَاءِ وَلَنْ تُؤْمِنَ لِرْقِيكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتْبًا نَّقْرَؤُهُ (بنی اسرائیل : ۹۴) تو اے محمد چڑھ جا آسمان میں اور ہم تیرے چڑھنے پر تجھے نہ مانیں گے جب تک اوپر سے ایسی کتاب نہ لاوے جس کو ہم پڑھ لیں ۔ اب بتلائیے اس طلب کا بجز اس کے کیا جواب ہو سکتا ہے کہ پاک ذات ہے میرا رب اس نے میرے لئے جو تجویز فرمادی وہ ناقص نہیں کہ اب اس تجویز کو بدلا وے اور میں تو بشر رسول ہوں ۔ بشر رسول تو ہمیشہ وہی معجزات دکھاتے رہے جو ان کی بشارت کے برخلاف نہ تھے اور وہی نشان لائے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے واسطے مقرر فرمائے تھے۔ ششم اس لئے کہ معجزات کا ظہور اور انبیاء کا فرمودہ کبھی بتدریج ظہور پذیر ہوتا ہے اور انبیاء میھم الصلوٰۃ و السلام چونکہ بشر اور رسول ہوتے ہیں۔ وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں ہوتے کہ خدائی ارادے کا خلاف چاہیں ۔ شریر لوگ ایسے موقت معجزات کو قبل از وقت چاہتے ہیں۔ چونکہ وہ معجزات وقت معین پر ظاہر ہونے والے اور مشروط بشرائط ہوتے ہیں۔ اسی لئے قبل از تحقق شرائط اور اس وقت معین کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتے ۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان بنی اسرائیل سے جو فرعون کی سخت تکالیف اٹھارہے تھے وعدہ ہوا کہ تم کو کنعان وغیرہ وغیرہ کا ملک عطا ہوگا۔ دیکھو تو ریت ۔ میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں ۔ یقینا دیکھی ۔ اور ان کی فریاد جو خراج کے محصولوں کے سبب سے ہے سنی ۔ اور میں ان کے دکھوں کو جانتا ہوں اور میں نازل ہوا ہوں کہ انہیں مصریوں