حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 386
حقائق الفرقان ۳۸۶ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ کیونکہ معنے اس آیت کے یہ سمجھے ہیں کہ پہلوں نے معجزات کو جھٹلایا۔ اس واسطے ہم معجزات کے بھیجنے سے رک گئے مگر یہ ان کا خیال غلط ہے۔ اول اس لئے کہ معجزات اور آیات کے وجود کا تذکرہ قرآن کریم میں بکثرت موجود ہے اور محمد صاحب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات نہ ماننے والوں کو اس لئے کہ بداہت اور موجودہ چیز کے منکر ہیں ظالم اور فاسق اور کافر کہا ہے اور الا کا لفظ جو مَا مَنَعَنَا والی آیت میں ہے۔ عرب کی زبان میں جن کی بولی پر قرآن کریم ہے۔ زائد بھی آتا ہے۔ دیکھو ذوالرمہ کا یہ قول حراجيح ما نَنْفَكُ إِلَّا مَنَاخَةً عَلَى الخَسفِ أَوْ تَرْمِي بها بلدًا قَفْرَا میرے لمبے قد کی اونٹنی ذلیل بیٹھی رہتی ہے۔ یا اس پر دور دراز کے بے آب و گیاہ میدانوں کا سفر کرتا ہوں ۔ دیکھو اس تحقیق پر ۔ اس آیت شریف کے معنی جس کو منکرین معجزہ پیش کرتے ہیں ۔ یہ ہوئے اور نہیں منع کیا ہم کو نشانوں کے بھیجنے سے پہلوں کی تکذیب نے کم سے کم یہ آیت انکار معجزہ پر صاف اور واضح دلیل نہ رہی۔ کیونکہ اس آیت سے معجزہ کا ثبوت نکلتا ہے۔ نہ نفی ۔ وَالْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِنْ هَذَا إِلَّا بِتَائِيْدِرُوحِ الْقُدُسِ ۔ دوم اس لئے کہ الا ایک حرف ہے جس کے معنے واؤ عاطفہ بھی آتے ہیں دیکھو معانی اور نحو کی بڑی بڑی کتابیں اور ثبوت کے لئے دیکھو یہ آیت شریف إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَى الْمُرْسَلُونَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ (النمل:(۱۱) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے پاس میرے رسولوں اور انہیں خوف ہی نہیں جنہوں نے گناہ کرتے کرتے گناہوں کو چھوڑ دیا اور گناہوں کے جابجا نیکی کرنے لگے۔ امام اخفش، امام فراء، امام ابوعبید ائمہ لغت و نحو نے کہا ہے۔ یہاں الا واؤ کے معنے پر آیا ہے۔ایسے ہی آیت شریف لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمُ (البقرة : ۱۵۱) اے لمبی جسیم اونٹنیاں ذلت کے باوجود بیٹھی رہتی ہیں۔ یا دور دراز کے بے آب و گیاہ علاقوں کا قصد کرتی ہیں۔ ۲۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو رب العالمین ہے اور یہ ( تعریف کرنا میسر نہیں مگر روح القدس کی تائید سے ہے۔