حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 385 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 385

حقائق الفرقان ۳۸۵ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ کس طرح قرآن کی حفاظت ہوئی۔ دنیا میں کوئی مذہب دکھاؤ جس کی کتاب اپنے ہادی کی زبان میں بعینہ اس طرح شہرت پذیر ہو۔ تراجم کا اعتبار نہیں۔ تراجم مترجمین کے خیالات ہیں ۔ انجیل کی تو ایسی حفاظت ہوئی کہ الامان ۔ انجیل کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ آج تک پتہ نہیں لگتا۔ مسیح کی اصل کتاب عبری تھی یا یونانی۔ پھر ان کا کلام بالکل حواریوں کے کلام سے مخلوط ہے۔ ممتاز نہیں۔ وید کی حالت شب و روز آنکھ کے سامنے ہے۔ حاجت بیان نہیں۔ پھر علی العموم تلاوت سے محروم ہیں اگر دنیا بنصرت الہی کسی مذہبی کتاب کی حافظ و ناصر ہے تو قرآن کریم اول نمبر پر ہے۔ ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ اول - صفحه ۶۴ تا ۶۷) کتاب اللہ ( قرآن ) اور سنت رسول الله ( حدیث ) میں بجائے لفظ معجزہ اور خرق عادت کے جو نہایت کمزور اور ناقص تھے ۔ آیت اور برھان کا لفظ مستعمل ہوا ہے۔ جو دلائل اثبات نبوت اور علامت رسالت کے واسطے جامع اور محیط ہونے کے علاوہ ہر زمانے کے موافق اور ہر ایک عقل صحیح کے مناسب ہے۔ فطرت اور قانون کے نزدیک صحیح ہے۔ ( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول - صفحہ ۶۹) قرآن کریم میں ہرگز ہرگز اختلاف نہیں ۔ جب قرآن کریم نے بتا دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ کی صداقت پر ہم نے نشان بھیجے تو ایسا ہر گز ممکن نہ ہوگا کہ قرآن میں یہ بھی لکھا ( ہو ) کہ ہم نے نشانِ نبوت حضرت نبی عرب کو نہیں دیئے ۔ کیونکہ ایسا ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جائے گا اور قرآن میں اختلاف نہیں علاوہ بریں کسی قرآنی آیت میں یوں نہیں آیا کہ ہم نے نشانات نبوت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نہیں دیئے معجزوں کے انکار پر جن آیات سے سائل اور اس کے کسی ہم خیال عیسائی اور ان کے پیرو آریہ نے استدلال کیا ہے ۔ ان آیات پر مفصل گفتگو تصدیق براہین میں دیکھو اور بقدر ضرورت یہاں عرض ہے۔ پہلے وہ آیت جس سے نبی عرب اور حسن تمام خلق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکروں نے دھو کہ کھایا ہے اور جس کا ذکر بہت سننے میں آیا ہے۔ یہ ہے۔ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْايَتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ (بنی اسرائیل: ۶۰) اس آیت شریف سے منکرین نے یقین کیا ہے کہ حضرت نبی عرب پر معجزہ کا ظہور نہیں ہوا۔ ے اور نہیں روکا ہم کو ان آیات کے بھیجنے سے مگر اس بات نے کہ پہلوں نے ان کو جھٹلایا۔