حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 387 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 387

حقائق الفرقان ۳۸۷ سُورَة بَنِي إِسْرَائِيلَ تو کہہ نہ رہے تم پر عام لوگوں اور خاص کر بدکاروں کی کوئی حجت اور دلیل ۔ پھر اس تحقیق پر منکرین کے پیش کردہ آیت کے یہ معنی ہوں گے۔ اور نہیں منع کیا ہم کو آیات کے بھیجنے سے کسی چیز نے اور منکروں کی تکذیب نے۔ اور یہ عطف خاص کا ہو گا عام پر۔ غور کرو۔ منکروں کی تکذیب ہرگز ہرگز معجزات کے روکنے والے نہیں ۔ اگر ان کی تکذیب روکتی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بڑے معجزات کا انکار کیا تھا۔ پھر کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کو معجزات عطا نہ کئے؟ بلکہ منکر ہمیشہ انکار کرتے رہے اور معجزات بھی آتے رہے۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِنْ هَذَا إِلَّا بِتَائِيُدِ رُوحِ الْقُدْسِ - تیسرا ۔ اس لئے کہ ہم نے مان لیا۔ یہاں الا کا لفظ زائد نہیں۔ عاطفہ بھی نہیں۔ استثناء کے واسطے ہے۔ الآیات کا الف اور لام عہد اور خصوصیت کے معنے دے گا یا عموم اور استغراق کے۔ پہلی صورت عہد اور خصوصیت کی اگر ہو گی تو آیت کے یہ معنے ہوں گے۔ اور نہیں منع کیا ہم کو خاص آیات کے بھیجنے سے مگر پہلوں کی تکذیب نے۔ اس سے یہ نکلا کہ خاص آیات اور کوئی خاص معجزات نہ آویں گے۔ اس سے عموم معجزات کی نفی ثابت نہیں ہوتی ۔ دوسری صورت یعنی اگر الف اور لام سے عموم اور استغراق لیا جاوے تو یہ معنی ہوں گے ۔ 66 کل آیات کے ارسال سے پہلوں کی تکذیب نے روکا ۔ مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کوئی بھی معجزہ نہیں بھیجیں گے ۔ چہارم اس لئے کہ اس مَا مَنَعَنَا والی آیت سے اتنا ہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معجزات کے بھیجنے سے تکذیب کے ماورا کسی چیز نے نہیں روکا اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی روک نہیں ۔ کہیں منکروں کی تکذیب رہے یہ بند کر دیتا ہے؟ ہمیشہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب ہوئی۔ مگر وہ آتے باری تعالیٰ حجت بند کر دیتا ہے؟ سے عليه رہے۔ ہمیشہ معجزات پر تکذیب ہوا کی اور معجزات ہوا کئے ۔ البی طاقتیں اور قوتیں منکرین کی روک سے رکتی نہیں ۔ منعنا لفظ کے معنے ہیں ۔ روکا ہم