حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 353
حقائق الفرقان ۳۵۳ سُورَة النَّحل دوست ۔ کسی کو اپنے جتھے پر ناز ہے۔ غرض معیت کے سوا انسان خوشحال نہیں ہو سکتا۔ میں نے دیکھا ہے بیوی ہو تب انسان خوش ہوتا ہے۔ حاکم ہو، فوج ہو، مال و اسباب ہو جب جا کر خوشی حاصل ہوتی ہے۔ معیت کا انسان متوالا ہے۔ میری طبیعت میں میں محبت محبت کا کا مادہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے ہے کہ کہ محبت بھی معیت کو چاہتی ہے۔ بطال لوگوں میں محبت کا مادہ ہو تو وہ بھی معیت کے متوالے ہوتے ہیں۔ صوفیوں میں ان بطال لوگوں کے متعلق بحث یہی ہے ۔ مگر اس سے انکار نہیں کہ معیت کی تڑپ سب میں ہے۔ انسان جب سرد ملکوں میں جاوے تو گرم کپڑوں کی معیت، ریل کا سفر کرے تو پیسوں کی معیت چاہیے۔ غرض انسان معیت بغیر کچھ بھی نہیں ۔ مگر خدا کی معیت سے بڑھ کر بھی کوئی معیت نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے۔ سوتے ، جاگتے ۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری معیت چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ میں تمام عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ آ جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کے ساتھ ہی ”مُحْسِنُونَ “ فرمایا اور احسان یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایسی عبادت کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو یا کم از کم یہ کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۲۴، ۲۵، ۲۶ مورخہ ۷ ، ۲۱،۱۴ را پریل ۱۹۱۰ ء صفحہ (۲)