حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 347

حقائق الفرقان ۳۴۷ سُورَة النَّحل علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو جانور شکاری ہیں وہ حرام ہیں اس میں درندے، شکاری پرند وغیرہ سب داخل ہیں ۔ اب اس سے زیادہ کوئی مجاز نہیں کہ کسی کو حلال اور حرام کہے۔ مگر دنیا میں چونکہ ہزار ہا جانور ہیں پھر وقت یہ ہوئی کہ اب کسے کھاویں اور کسے نہ کھاویں۔ اس مشکل کو اللہ تعالیٰ نے نہایت آسانی سے حل کر دیا ہے ۔ فرما یا فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَيْلًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (النحل : ۱۱۵) یعنی حلال حلال طیب کھاؤ ۔ اب گویا یہ بتلا دیا کہ جو چیز طیب ہو وہ کھاؤ۔ چنانچہ ہر جگہ ہر قوم میں جو چیزیں عمدہ اور پاک ہوں اور شرفا اور مہذب لوگ کھاتے ہوں وہ کھالو۔ اس میں وہ استثناء جو پہلے بیان ہو چکے ان کا ملحوظ رکھنا نہایت ضرور ہے۔ طوطا کھا لینے میں تو کوئی ہرج نہیں معلوم ہوتا مگر میں نہیں کھایا کرتا کیونکہ ہمارے ملک کے شرفا نہیں کھاتے ۔ ایک دفعہ ایک صاحب میرے سامنے گوہ (ضب ) پکا کر لائے کہ کھائیے ۔ میں نے کہا کہ آپ بڑی خوشی سے میرے دستر خوان پر کھائیے مگر میں نہ کھاؤں گا کیونکہ شرفا اسے نہیں کھاتے ۔ البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۹ مورخه ۱۹ مارچ ۱۹۱۱ ء صفحه ۱) ۱۱۹ - وَ عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَ مَا ظَلَمْنَهُمْ وَلكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ - ترجمہ ۔ اور یہودیوں پر ہم نے حرام کر دیا تھا جو آگے تجھ سے بیان کر چکے ہیں (پ ۴٫۸ آیت ۲ میں ہماری طرف سے تو کسی پر ظلم نہیں ہوا مگر وہ اپنے پر آپ ہی ظلم کرتے رہے۔ تفسیر وَمَا ظَلَمْنَهُمْ - یہودیوں پر جو چربی اونٹ وغیرہ حرام تھا تو ان کے ہی بد عملوں کی وجہ سے اور ارض مقدسہ سے جو چہل سال محروم رکھے گئے۔ تو یہ بھی عدول حکمی کی سزا تھی۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۱۰ ء صفحه (۱۴۸) ١٢١ - إِنَّ ابْرَاهِيمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتَا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - ترجمہ۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بھلائی سکھانے والا پیشوا تھا اللہ کا فرمانبردار سب طرف سے منہ پھیر کر خالص اللہ کا ہی ہو رہا تھا اور وہ تو مشرکوں میں سے تھا ہی نہیں۔ لے یعنی سورۃ الانعام آیت نمبر ۷ ۱۴ میں ۔