حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 348
حقائق الفرقان ۳۴۸ سُورَة النَّحل تفسیر۔ انسان کی فطرت میں یہ خواہش ہے کہ وہ معزز ہو۔ اس کی اولا دا چھی ہو۔ اس کا ذکر خیر دنیا میں چلے۔ خدا کا اس سے بہت تعلق ہو۔ وہ مر کر بھی عزت پائے۔ ابراہیم علیہ السلام ان تمام انعامات سے متمتع ہوئے ۔ امة ۔ ایک معنے امام کے ہیں ۔ دوسرے معنے گروہ ہیں لَيْسَ عَلَى اللَّهِ بِمُسْتَنْكَرٍ أَنْ يَجْمَعَ الْعَالَمَ فِي وَاحِدٍ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس لحاظ سے ایک قوم تھے۔ اب بتاتا ہے کہ اس کی اولاد میں سلطنت ہے، نبوت ہے۔ تمام جہان کے لوگ اس پر سلام بھیجتے ہیں۔ تو رات میں ہے۔ جو تجھ پر اے ابراہیم برکت بھیجے۔ میں اس کا گھر برکت سے بھر دوں گا۔ ابراہیم میں کیا خوبی تھی۔ ان آیات میں کچھ ذکر ہے۔ حَنِيفًا ۔ کے معنے ہیں مستقیم راہ پر چلنے والا ۔ عربی میں جس کے پاؤں ٹیڑھے ہوں اسے بطور دعا احْنَفْ کہتے ہیں۔ سروو ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۸) ۱۲۲ - شَاكِرًا لِانْعُمِهِ اجْتَبُهُ وَهَلْ لَهُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - وو ترجمہ۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر گزار تھا ۔ اللہ نے اس کو چن لیا تھا اور سیدھی راہ کا اس کو راستہ بتایا تھا۔ اللہ تفسیر ۔ شَاكِرًا لا نعبه - حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو ایک دفعہ فرمایا۔ تم بہت عورتیں دوزخ میں جاؤ گی ۔ ایک عورت نے پوچھا کیوں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ تم اللہ کی نعمتوں کا کفر کرنے والی ہو۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عورت معمولی بات پر ناراض ہو تو باوجود بہت سی آسائشوں کے کہہ اُٹھتی ہے میں نے اس گھر میں ایک لحظہ آرام نہیں پایا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَكُم " (ابراهیم:۸) اللہ شکر سے مال کو بڑھا دیتا ہے۔ مگر بہت ہیں جو اس سہل علاج کو چھوڑ کر کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک شاعر نے کہا سر نوشت ما، بدست خود نوشت خوش نویس است و نخواهد بد نوشت ۳ لے خدا پر فرد واحد میں ” جہان جمع کر دینا اچنبھا نہیں ہے اگر تم شکر کرو گے تو میں (خود) تم کو اور زیادہ کر دوں گا۔ سے ہماری تقدیر اس ”خدا نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہے وہ اچھا لکھنے والا ہے، برا نہیں لکھے گا۔