حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 346 of 548

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 346

حقائق الفرقان ۳۴۶ سُورَة النَّحل ۱۱۴ - وَ لَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولُ وَهُمْ رَسُولٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظُلِمُونَ - ترجمہ ۔ اور اُن کے پاس آچکا ایک رسول انہیں میں کا تو انہوں نے اس کو جھٹلا یا اس لئے ان کو عذاب نے آلیا اور وہ ظالم ہی تھے۔ تفسیر - وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ - کیسا صاف نقشہ کھینچا ہے کہ خود مکہ والوں ہی کو سمجھا رہا ہے۔ مگر وہ نادان کہانی سمجھ رہے ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۸) ۱۱۵ - فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلَلًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ دووور تَعْبُدُونَ - ترجمہ ۔ تو کھاؤ جو تم کو اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو جب تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ تفسیر فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ الله ۔ فرماتا ہے حرام خور یاں جن کی تفصیل آگے ہوتی ہے چھوڑ دو اور حلال کھاؤ ۔ غنیمت سے بڑھ کر حلال طیب کیا ہوتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۸) ایک صاحب نے دریافت کیا کہ طوطا حلال ہے یا حرام؟ فرمایا۔ قرآن میں آیا ہے۔ لَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هُذَا حَلْلٌ وَ هُذَا حَرَامٌ 11 لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ (النحل : ) (النحل: ۱۱۷) یہ خدا پرافترا باندھنا ہے کہ یہ حلال ہے یا حرام ۔ خدا نے تو فرمایا ہے حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله الخ (البقرة: ۱۷۴) حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ ے اور اپنی زبان سے جھوٹ بنا کر نہ کہو کہ کر نہ کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے تا ہے تا کہ جھوٹ باندھو اللہ پر اور جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ مظفر منصور نہیں ہوتے۔ ہے اس نے تو حرام کیا ہے تم پر خود مردہ اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جو اللہ کے سواکسی اور کے نام سے پکاری جائے۔