حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۳) — Page 345
حقائق الفرقان ۳۴۵ سُورَة النَّحل لَا حَرَّ وَلَا قَرَ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ - ادھر شام ۔ اُدھر افریقہ تک سے تجارت کرتے۔ پھر پجاری لوگ آتے وہ روپیہ لاتے۔ حکومت کا معاوضہ الگ ملتا۔ یہ فَكَفَرَت ۔ ایک جگہ فرمایا ہے ۔ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا وَ أَحَلُوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (ابراهيم :۲۹) آیت اس کی تفصیل فرماتی ہے۔ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ ۔ مشرکین نے صحابہ کو یہی دو دکھ دیئے تھے۔ ایک تو ان کو بھوکا رکھا چنانچہ وہ غلہ خرید لیتے ۔ قبل اس کے کہ شعب بنی ہاشم تک پہنچے۔ اس کی سزا میں ایسا شدید قحط پڑا کہ ہڈیاں اور چمڑے تک کھانے پڑے۔ خوف مشرکین کی طرف سے یہاں تک پہنچایا گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی وہ شہر چھوڑنا پڑا ۔ جس کی عقوبت میں ان پر جنگ کی سز اوارد ہوئی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۴۸) ایک قوم کو ہم نے بڑی نعمتیں دیں۔ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللهِ (النحل: ۱۱۳) اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی کچھ قدر نہ کی تو ہم نے ان کو بھوک کی موت مارا۔ بھوک کی موت بہت ذلت کی موت ، بہت دکھ کی موت ہوتی ہے۔ میں نے ان اپنی آنکھوں سے بھوک کی موت مرتے لوگ دیکھے ہیں۔ دودھ ان کے منہ میں ڈالیں تو وہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ کشمیر میں خطرناک قحط پڑا کا فر تو سو بھی کھاتے ہیں۔ ان کے باورچی خانہ کے ارد گرد لوگ جمع ہو جاتے کہ شائد کوئی چھچھڑا مل جائے ۔ یہ حالت اضطراری تھی اس لئے مسلمان معذور تھے۔ پندرہ بڑے بڑے غربا خانے تھے اور رئیس چار سیر گیہوں خرید کر سولہ سیر کے حساب سے دیتا مگر پھر بھی خدا ہی دے تو بندہ کھائے ۔ بندے کی کیا ہی طاقت ہے کہ اتنی دنیا کی رزق رسانی کر سکے۔ الفضل جلد نمبر ۴ یکم اکتوبر ۱۹۱۳ صفحه ۱۵) ا میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح پرسکون ہے نہ خوف، نہ تنگی، نہ گرمی کی شدت نہ سردی کی ۔ ے جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ( حق بات اور توحید کو بدل دیا کفر سے اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا۔